القرآن
اللہ کی یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ (اے پیغمبر آپ ان کے حق میں نرم مزاج واقع ہوئے ہیں ۔ اگر آپ (خدانخواستہ) تند مزاج اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب لوگ آپ کے پاس سے تتر بتر ہوجاتے۔ لہذا ان سے درگزر کیجئے، ان کے لیے بخشش طلب کیجئے [١٥٣] اور (دین کے) کام میں ان سے مشورہ کیا کیجئے۔ پھر جب آپ (کسی رائے کا) پختہ ارادہ کرلیں تو اللہ پر بھروسہ [١٥٤] کیجئے۔ (اور کام شروع کردیجئے) بلاشبہ اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب [١٥٥] نہیں آسکتا۔ اور اگر وہ تمہیں بے یارو [١٥٦] مدد گار چھوڑ دے تو پھر اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکے؟ لہذا مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔یہ نبی کے شایانِ شان نہیں[١٥٧] کہ وہ خیانت کرے۔ اور جو شخص خیانت کرے گا وہ قیامت کے [١٥٧۔١] دن اسی خیانت کردہ چیز سمیت حاضر ہوجائے گا۔ پھر ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔بھلا جو شخص اللہ کی رضا کے پیچھے چل رہا ہو وہ اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اللہ کے غضب میں گرفتار [١٥٨] ہو اور اس کا ٹھکانا جہنم ہو؟ اور جہنم تو بہت برُی بازگشت ہے۔اللہ کے ہاں سب لوگوں کے مختلف درجات ہیں اور جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں اللہ انہیں خوب دیکھ رہا ہے
حدیث
سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 853 حدیث مرفوع مکررات 2 متفق علیہ 0 محمد بن ابی عمر عدنی، عبداللہ بن معاذ، معمر، عاصم ابن ابی نجود، ابی وائل، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے ایک روز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوا ہم چل رہے تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کرا دے اور دوزخ سے دور کر دے۔ فرمایا تم نے بہت عظیم اور اہم بات پوچھی ہے اور جس کے لئے اللہ آسان فرما دیں یہ اس کے لئے بہت آسان بھی ہے تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرو نماز کا اہتمام کرو زکوة ادا کرو اور بیت اللہ کا حج کرو پھر فرمایا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں (کی آگ) کو ایسے بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور درمیان شب کی نماز (بہت بڑی نیکی ہے) پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ تتجافی جنوبھم عن المضاجع سے جزاء بماکانوا یعملون تک۔ پھر فرمایا سب باتوں کی اصل اور سب سے اہم اور سب سے بلند کام نہ بتاؤں؟ وہ (اللہ کے حکم کو بلند کرنے اور کفر کا زور توڑنے کیلئے) کافروں سے لڑنا ہے پھر فرمایا میں تمہیں ان سب کاموں کی بنیاد نہ بتاؤں میں نے عرض کیا ضرور بتلائیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا اس کو روک رکھو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی جو گفتگو ہم کرتے ہیں اس پر بھی کیا مواخذہ ہوگا؟ فرمایا اے معاذ لوگوں کو اوندھے منہ دوزخ میں گرانے کا باعث صرف ان کی زبان کی کھیتیاں (گفتگو) ہی تو ہوگی۔ سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 869 حدیث مرفوع مکررات 0 متفق علیہ 0 حرملہ بن یحییٰ، عبداللہ بن وہب، ابن لہیعہ، عیسیٰ بن عبدالرحمن، زید بن اسلم، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک روز مسجد نبوی کی طرف تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں فرمایا کیوں رو رہے ہو؟ میں نے ایک بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی اس کی وجہ سے رو رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے اور جو اللہ کے کسی ولی (متبع شریعت عامل بالسنة) سے دشمنی کرے اس نے اللہ کو جنگ میں مقابلہ کے لئے پکارا۔ اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں ایسے لوگوں کو جو نیک و فرماں بردار ہیں متقی و پرہیزگار ہیں اور گمنام و پوشیدہ رہتے ہیں کہ اگر غائب ہوں تو ان کی تلاش نہ کی جائے حاضر ہوں تو آؤ بھگت نہ کی جائے (ان کو بلایا نہ جائے) اور پہچانے نہ جائیں (کہ فلاں صاحب ہیں) ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں وہ ہر تاریک فتنہ سے صاف بے غبار نکل جائیں گے۔

عقیدہِ ختمِ نبوت اور مرزاییت کے منہ پر طمچہ


عقیدہِ ختمِ نبوت اور مرزاییت کے منہ پر طمچہ

 

                اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْناً ط

                ''آج میں نے تمہارا دین کامل کر دیا، اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی، اور تمہارے لیے دین اسلام ہی پسند کیا۔''

(سورة مائدہ، پارہ٦)

                یہ آیتِ کریمہ اس امتِ مرحومہ کی ایک بہت بڑی مخصوص فضیلت اور شرافت کا اعلان کر رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک یہودی نے حضرت فاروق اعظم سے ایک مرتبہ کہا کہ اے امیر المومنین! تمہارے قرآن میں ایک آیت ہے جس کو تم پڑھتے ہو اگر وہ ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید مناتے، جس دن یہ نازل ہوئی، آپ نے فرمایا وہ کونسی آیت ہے؟ یہودی نے کہا:

                اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ ۔

                فاروق اعظم نے جواب دیا:

                ''ہم اُس دن اور اس جگہ کو خوب جانتے ہیں جس میں یہ آیت نازل ہوئی، یہ آیت نبی کریم ۖ پر جمعہ کے دن اس وقت نازل ہوئی جب آپۖ عرفہ میں کھڑے ہوئے تھے۔''   (بخاری و مسلم)

                حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس دن پانچ عیدیں جمع تھیں، جمعہ، عرفہ، عید یہود، عید نصاریٰ، عید مجوس اور دنیا کی تاریخ میں (نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد) تمام مللِ دنیا کی عیدیں کبھی آج تک جمع نہیں ہوئیں۔                                                                (تفسیرخازن: ص٤٣٥، ج ا)

                غرض کہ یہ آیت شریفہ اس امت کی اس عظیم الشان خصوصی فضیلت کو بیان کر رہی ہے جو باقرار اہل کتاب اس امت سے پہلے کسی کو نہیں ملی، یعنی خدا وند عالم نے اپنا دینِ مقبول اس امت کے لیے ایسا کامل فرمادیا کہ قیامت تک اس میں ترمیم کی ضرورت نہیں، عقائد، اعمال، اخلاق، حکومت، سیاست، شخصی آداب، حرام و حلال، مکروہات و مستحبات کے قوانین اور قیامت تک کے لیے تمام ضروریات معاش و معاد کے اصول ان کے لیے اس طرح کھول دیے کہ وہ تاقیامِ قیامت کسی نئے دین یا نئے نبی کی رہبری کے محتاج نہیں،  یہاں تک کہ اس خیرالامم کے پیشوا سید الاولین و الآخرین ۖ اس وقت اس عالم ظاہری سے رخصت ہوئے ہیں جبکہ وہ اپنی امت کے لیے ایک ایسی صاف و سیدھی اور روشن شاہراہ تیار فرماچکے ہیں جس پر چلنے والے کو دن اور رات میں کوئی خطرہ مانع نہ ہو، چنانچہ آنحضرت ۖ نے خود ارشاد فرمایا ہے:

                ''میں نے ایک ایسی صاف روشن راہ مستقیم کو چھوڑا ہے کہ جس کا رات دن برابر ہے۔''

                یہاں تک کہ یہ امت کسی دوسرے دن اور دوسری نبوت کی محتاج نہیں رہی۔

                بہرحال یہ آیت حکم کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے دین کو بہمہ وجوہ کامل فرما دیا ہے، اس کو آنحضرت ۖ کے بعد نہ کسی نئے نبی کے پیدا ہونے کی ضرورت ہے اور نہ کسی نئے دین کی۔

                اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ آیت مذکورہ میں اکمالِ دین سے مراد یہ ہے کہ فرائض اور سنن اور حُدود و احکام اور حلال و حرام کو مکمل بیان فرمادیا گیا، اس کے بعد کوئی حلال و حرام نازل نہیں ہوا اور نہ اس کی قیامت تک ضرورت رہی۔

                 بعض حضراتِ مفسرین نے فرمایا ہے کہ اکمالِ دین سے مراد ہے کہ یہ دین قیامت تک رہنے والا ہے، کبھی منسوخ یا مندرس اور بے نام و نشان نہ ہوگا۔ بعض مفسرین نے اس امت کے لیے اکمال دین کی یہ مراد قرار دی ہے کہ یہ امت ہر ایک نبی اور ہر آسمانی کتاب پر ایمان لائی، کیونکہ تمام انبیاء اور تمام کتابیں اس امت سے پہلے صفحۂ وجود میں آچکے، بخلاف تمام پہلی امتوں کے ان کو یہ فضیلت نصیب نہیں ہوئی کیونکہ ان کے زمانہ میں تمام انبیاء اور تمام آسمانی کتابیں وجود میں نہیں آئی تھیں۔

                بہر حال مذکورة الصدر تینوں کی تینوں تفسیروں میں سے اکمالِ دین کی جو تفسیر بھی رکھی جائے یہ آیت ہمارے زیر بحث مسئلہ ''ختم نبوت'' کے لیے ایک روشن دلیل ہے، کیونکہ تینوں تفسیروں کا حاصل یہ ہے کہ اس دین کے بعد کوئی دین اور آنحضرت ۖ کے بعد کوئی نبی تاقیامت پیدا نہ ہوگا۔

                الغرض کم ازکم یہ آیت آیاتِ احکام میں سے آخری آیت ہے اور آئندہ کے لیے انقطاع وحی و نبوت کی خبر دے رہی ہے اور حدیث میں ہے کہ جس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو فاروق اعظم رونے لگے، آنحضرت ۖ نے فرمایا، کیوں روتے ہو؟ فاروق اعظم نے عرض کیا:

                ''تحقیق ہم اپنے دین میں زیادتی اور ترقی میں تھے، لیکن جب وہ کامل ہوگیا تو (عادت اللہ اسی طرح جاری ہے) کہ جب کوئی شے کامل ہوجاتی ہے تو پھر وہ ناقص ہوجاتی ہے، آنحضرت ۖ نے فرمایا، تم نے سچ کہا اور یہی آیت آنحضرت ۖ کی خبر وفات سمجھی گئی اور آپۖ اس کے بعد صرف اکیاسی روز اس عالم میں زندہ رہے۔''

                فاروق اعظم کا یہ واقعہ مذکورہ سابق تفسیر کی روشن دلیل اورکھلی شہادت ہے، کیونکہ اگر اکمالِ دین اور تمامِ نعمت سے نزولِ احکام دین کا اختتام اور وحی و نبوت کا انقطاع اور خاتم الانبیاء ۖ کی وفات مراد نہ تھی تو فاروق اعظم کا اس موقع پر رونا بے محل اور بے معنی ہوجائے گا اور امام المفسرین علامہ ابن کثیر اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

                ''یہ اس اُمت پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے کہ اس نے اُن کے لیے دین کو کامل فرمایا، لہذا امتِ محمدیہۖ نہ اور کسی دین کی محتاج ہے نہ اور کسی نبی کی، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ۖ کو خاتم الانبیاء بنایا اور تمام جن و بشر کی طرف مبعوث فرمایا۔''

                ابن کثیر کی اس تفسیر سے جیسا کہ اکمالِ دین کے معنے حسب تحریر سابق معلوم ہوئے، اسی طرح اس کا بھی فیصلہ ہوگیا کہ آپۖ کے بعد نہ کسی شریعت اور صاحب شریعت نبی کی ضرورت ہے اور نہ مطلق نبی کی، صاحبِ شریعت ہو یا نہ ہو۔

                علامہ فخر الدین رازی اپنی تفسیر کبیر میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے قفال مروزی سے نقل کرتے ہیں اور خود بھی اسی کو اختیار فرماتے ہیں:

                ''دین الہٰی کبھی ناقص نہیں تھا، بلکہ ہمیشہ سے کامل تھا اور تمام شرائع الہٰیہ اپنے اپنے وقت کے لحاظ بالکل مکمل اور کافی تھیں مگر اللہ تعالیٰ پہلے ہی جانتا تھا کہ وہ شریعت جو آج کامل ہے کل کافی نہ رہے گی، اس لیے وقت مقررہ پر پہنچ کر اس کو منسوخ کردیا جاتا تھا۔ لیکن آخر زمانِ بعثت میں اللہ تعالیٰ نے ایسی شریعت کاملہ بھیجی جو ہر زمانہ کے اعتبار سے کامل ہے اور اس کے تاقیامت باقی رہنے کا حکم فرمایا۔''

                خلاصہ یہ کہ پہلی شریعتیں بھی کامل تھیں، مگر ایک وقت مخصوص تک کے لیے اور یہ شریعت قیامت تک کے لیے کافی اور کامل ہے اور اسی معنیٰ کی بناء پر اَلیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ فرمایا گیا۔''

                امام رازی کی اس تحریر سے بھی یہ امر واضح ہوگیا کہ اکمالِ دین کی مراد وہی ہے جو اوپر عرض کی گئی اور اس امت کے لیے اکمالِ دین کی غرض یہ ہے کہ یہ امت آخر الامم ہے اور اس کا زمانہ آخر زمانِ بعثت ہے کہ اس کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ کیا جائے گا۔

                امام موصوف نے اس تحریر میں ان تمام شبہات و اوہام کی جڑ قطع کردی اور فرمادیا کہ آیت کی ہرگز یہ مراد نہیں کہ اب سے پہلی تمام شریعتیں اور ادیان سماویہ ناقص تھے، صرف یہ دین کامل نازل ہوا۔

                بلکہ ہر دینِ الہٰی اور شریعت الہٰیہ ہمیشہ اپنے اپنے زمانہ کے لحاظ سے کامل تھے اور اس زمانہ کے لوگوں کی ہدایت کے لیے بالکل کافی و شافی تھے البتہ خداوند عالم کو معلوم تھا کہ آئندہ کسی زمانہ میں بوجہ انقلاب حالات یہ شریعت اور قانون آئندہ نسلوں کے لیے ناکافی ہوگا اور اس کو منسوخ کرکے دوسرا دین اور شریعت بھیجی جائے گی لہٰذا پہلی تمام شرائع و ادیانِ سماویہ کا کمال صرف اپنے اپنے زمانہ کے لحاظ سے تھا اور یہ دین متین جس کو لے کر خاتم الانبیاء ۖ تشریف لائے قیامت تک کے لیے ہدایت و رہبری کا وثیقہ ہے، اس کا کمال غیر موقت اور ہمیشہ کے لیے ہے۔

                خلاصہ یہ کہ دین الہٰی کوئی ناقص نہیں سب کامل ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ جس طرح پہلے انبیاء علیہم السلام خاص خاص مدت اور خاص خاص لوگوں کے لیے مبعوث ہوتے تھے ان کی بعثت نہ باعتبار زمانہ کے عام اور باعتبار انسانوں کے طبقات کے عام اور سب پر محیط ہوتی تھی، اسی طرح اُن کی شریعتیں بھی ہمیشہ کے لیے نہ تھیں۔(بقیہ صفحہ نمبر12)

                حضرت ابو حازم فرماتے ہیں کہ میں پانچ سال حضرت ابوہریرہ کے ساتھ رہا۔میں نے خود سنا کہ وہ یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے کہ:

                آنحضرت ۖ نے فرمایا ہے:

                ''کہ بنی اسرائیل کی سیاست خود ان کے انبیاء علیہم السلام کیا کرتے تھے، جب کسی نبی کی وفات ہوتی تھی تو اللہ تعالیٰ کسی دوسرے نبی کو ان کا خلیفہ بنا دیتا تھا، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔(یہ سن کر) صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہۖ! اُن خلفاء کے متعلق آپۖ کیا حکم دیتے ہیں؟ آپۖ نے فرمایا ہر ایک کے بعد دوسرے کی بیعت پوری کرو اور ان کے حقِ اطاعت کو پورا کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اُن کی رغبت کے متعلق ان سے سوال کرے گا۔''                                                  ( بخاری: صفحہ ٤٩١ جلد اول)

ایک اور شبہ اور اس کا جواب:

                کہا جاتا ہے کہ حدیث مذکورہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں ''قولو خاتم النبیین ولا تقولو لا نبی بعدہ'' یعنی خاتم النبیین کہو، مگر لانبی بعدہُ مت کہو۔ (درمنشور)

                اور حضرت مغیرہ شعبہ کے سامنے ایک شخص نے کہا کہ رحمت کرے اللہ محمد ۖ پر جو کہ خاتم النبیین ہیں، یعنی آپۖ کے بعد کوئی نبی نہیں، حضرت مغیرہ نے یہ سنکر ارشاد فرمایا:

                ''تمہارے لیے صرف خاتم الانبیاء کہہ دینا کافی ہے (لا نبی بعدہُ کہنے کی ضررت نہیں) کیونکہ ہم سے حدیث بیان کی گئی ہے کہ عیسیٰ نکلنے والے ہیں پس جب وہ نکلیں گے تو وہ آپۖ سے پہلے بھی ہوئے اور بعد میں بھی۔''

                ہم اس نرالے مرزائی اصول کے سمجھنے سے عاجز ہیں کہ اگر مطلب کے موافق نہ ہو تب تو احادیث متواترہ و مشہورہ اور روایاتِ صحیح بخاری و مسلم کو بھی ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں اور اگر اپنی ہوائے نفس کے مطابق ہو تو ایک ضعیف سے ضعیف حدیث بلکہ ایک ایسے قول پر جس کی نسبت کسی صحابی کی طرف ہو اگرچہ اس کی سند کا بھی کچھ پتہ نہ ملتا ہو اس درجہ یقین کر لیا جاتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں صحیح بخاری کی مرفوع حدیثوں کا رد کر دینا ان کے نزدیک سہل ہوجاتا ہے۔

                کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ایک طرف صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث مرفوع ہے اور دوسری طرف اس کے مقابلہ میں ایسے دو قول جن کی نسبت حضرت عائشہ اور حضرت مغیرہ کی طرف ہے جن کی اسناد کا حال بھی معلوم نہیں۔ اصولِ حدیث اور عقل و دانش کے فیصلہ سے اس وقت واجب تھا کہ صحیح اور مرفوع حدیث کو مجہول الاسناد آثار پر ترجیح دے کر بمقابلہ احادیث صحیحہ کے ان آثار کو نظر انداز کر دینا ناقابل تاویل قرار دیا جاتا، مگر مرزائی دنیا کے نرالے اصول نے فیصلہ کیا کہ ایک مجہول الاسناد قول صحابی کی بناء پر صحیحین کی قوی الاسناد مرفوع حدیث کو مردود کردیا، کیا خوب:

بار خاطر ہو تو قرآن کا بھی ارشاد برا

دل کو بھا جائے تو مرزا کی خرافات اچھی

حضرت عائشہ خود ختم نبوت کی قائل:

                علاوہ بریں جب ہم ختم نبوت کی احادیث پر نظر ڈالتے ہیں اور ان کے رواة کی فہرست لگاتے ہیں تو ان صدیقہ عائشہ کا نام بھی جلی حرفوں میں سامنے آتا ہے اور دفترِ حدیث میں سے احادیث ذیل خود حضرت عائشہ کی روایت سے ہم تک پہنچتی ہیں:

                ''حضرت عائشہ روایت فرماتی ہیں کہ آنحضرت ۖ نے فرمایا کہ میرے بعد نبوت میں سے کوئی جُز و باقی نہیں رہے گا سوائے مبشرات کے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ۖ مبشرات کیا چیز ہیں؟ آپۖ نے فرمایا: کہ اچھے خواب جو کوئی مسلمان خود دیکھے یا اس کے لیے کوئی اور دیکھے۔''                           کنزل العمال میں بحوالہ مسند احمد

                نیز عائشہ صدیقہ ہی آنحضرت ۖ سے مرفوعاً روایت فرماتی ہیں:

                ''میں خاتم الانبیاء ہوں اور میری مسجد خاتم مساجد الانبیاء ہے۔''

                (کنز العمال بحوالہ دیلمی ، ابن نجارا وربزار)

                کیا اس کے بعد بھی کسی مسلمان بلکہ منصف انسان کے لیے جائز ہوسکتا ہے کہ وہ صدیقہ عائشہ پر یہ افتراء باندھے کہ وہ ختم نبوت کا انکار کرتی ہیں۔

                کیا ظلم نہیں کہ ہوائے نفس کے موافق ہو تو ایک مجہول الاسناد قول پر بلا تحقیق ایمان لے آئیں اور ہوائے نفس کے خلاف ہو تو ہر صحیح سے صحیح اور قوی سے قوی حدیث کو رد کر دیا جائے۔ افکلما جآء کم رسول بمالا تھوی انفسکم استکبر تم ط۔

ایک اور شبہ اور اس کا جواب:

                کہا جاتا ہے کہ حدیث لا نبی بعدی حیات عیسیٰ کے مخالف ہے جیسا کہ ابھی حضرت عائشہ اور مغیرہ کی طرف منسوب اقوال سے معلوم ہوا کیونکہ اگر لانبی کی نفی عام ہے تو عیسیٰ بھی اس نفی میں داخل ہیں اور اگر عام نہیں ہے تو آپۖ کے بعد انبیاء ہونے کی گنجائش نکلتی ہے اور مسئلہ ختم نبوت ہاتھ سے جاتا ہے۔

                یہ وہ شبہ ہے کہ مرزائی امت اس کو لاینحل سمجھ کر بڑے دعوے کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ لیکن حقیقت میں یہی ان کی انتہائی بے وقوفی کی دلیل اور مبلغ علم کا امتحان ہے کیونکہ یہ شبہ وہ شخص کر سکتا ہے جس کو عربی سمجھنے کی بھی تمیز نہ ہو اور جو محاورات عرب سے بالکل ناواقف ہو۔

                صحیح مسلم غزوۂ تبوک میں حضرت سعد بن ابی وقاص کی وہ حدیث جس میں لانبی بعدی کے بجائے لا نبوة بعدی کے الفاظ موجود ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ میرے بعد نبوت نہیں، جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ لا نبی بعد ی کے معنی بھی یہی ہیں کہ آپۖ کے بعد کسی کو نبوت نہ دی جائے گی۔

                اس کے بعد ہم یہ کہتے ہیں کہ لا نبی بعدی میں نفی بالکل عام ہے، اس سے کوئی نبوت مستثنیٰ نہیں، مگر محاورۂ عرب اور فن حدیث کے موافق اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ آنحضرت ۖ کے بعد کسی شخص کو عہدۂ نبوت نہ دیا جائے گا۔ نہ موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کو اور نہ آئندہ پیدا ہونے والے مرزاکو۔

                ہاں جن حضرات کو آپۖ سے پہلے یہ عہدہ مل چکا ہے اس کا سلب ہونا اور ان کا عہدۂ نبوت سے معزول ہوجانا اس سے کسی طرح لازم نہیں آتا پس اگر حضرت عیسیٰ کو اس عالم میں آپۖ سے پہلے عہدۂ نبوت مل چکا ہے تو ان کا آپۖ کے بعد میں تشریف لانا ہرگز لانبی بعدی کے خلاف نہیں، ہاں جو مسیحیت کا مدعی آج اپنے لیے عہدۂ نبوت ثابت کرنا چاہتا ہے، اس کے بیشک یہ حدیث ایک مایوس کن پیغام ہے وہ اس پر جتنا ماتم کرے بجا ہے۔

                الغرض محاوراتِ عرب کا تتبع حکم کرتا ہے کہ لانبی بعدی کے معنیٰ یہ ہیں کہ آپۖ کے بعد کسی کو عہدۂ نبوت نہ دیا جائے گا اور جن لوگوں کو آپۖ سے پہلے اس عالم میں نبوت مل چکی ہے ان سب کا فنا ہوجانا یا ان کا نبوت سے معزول ہوجانا یا آپۖ کے بعد دوبارہ دنیا میں نہ آسکنا کسی طرح اس حدیث کے مفہوم میں داخل نہیں، بلکہ یہ محض مرزائی خوش فہمی کی برکات ہیں اور شاید حضرت عائشہ اور حضرت مغیرہ کو کشف کے آئینہ میں یہی خوش فہم فرقہ نظر آگیا ہو جس کے اصلاح اور ان کے خیالاتِ باطلہ کے قلع قمع کے لیے انہوں نے کلمۂ لانبی بعدی کے اطلاق کو عوام کے لیے پہلے ہی سے روک دیا ورنہ عربیت سے واقف حضرات سے یہ اندیشہ نہیں ہوسکتا تھا۔

ایک اور شبہ اور اس کا ازالہ:

                قادیانی نبوت کے دلدادہ لوگوں نے حدیث لانبی بعدی کی تحریف کے لیے جو کچھ تدبیریں اختیار کی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لا نبی کی نفی کو نفی کمال قرار دیا جائے، یعنی میرے بعد کوئی کامل نبی نہیں ہوسکتا' غیر مستقل اور غیر تشریعی نبی ہونے کی نفی نہیں۔

                اگر ایسا ہے تو لا الہ الا اللّٰہ اور لاریب فیہ وغیرہ میں نفی کمال مراد نہ لی جائے۔

                اگر آپ کے پاس کوئی ایسی دلیل موجود ہے کہ جس کے ذریعہ سے لا الہ الا اللّٰہ میں نفی کمال مراد لینے سے منع کیا جا سکتا ہے تو وہی دلیل ہماری جانب سے لا نبی بعدی میں نفی کمال مراد نہ ہونے پر تصور فرمالیں۔

ایک شبہ اور اس جواب:

                مرزائی امت نے جدید نبوت کے اشتیاق میں حدیث لا نبی بعدی کی تحریف کے لیے کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا، ہر ضعیف سے ضعیف اور لچر سے لچر وہم کا سہارا ڈھونڈھا گیا، اسی ذیل میں کہا گیا کہ حدیث لانبی بعدی کو ایسا سمجھنا چاہیے جیسے حدیث اذاھلک کسریٰ فلا کسریٰ بعدہ واذاھلک قیصر فلا قیصر بعدُ (یعنی جب کسریٰ بادشاہ ملک فارس ہلاک ہوجائے گا تو پھر اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا اور جب قیصر بادشاہ روم ہلاک ہوجائے گا تو پھر کوئی اس کے بعد قیصر نہیں ہوگا)

                چونکہ کسریٰ اور قیصر خاص شخصوں کے نام نہیں بلکہ کسریٰ ملک فارس کے ہر بادشاہ کا لقب ہے اور اسی طرح قیصر ملک روم کے ہر بادشاہ کو کہا جاتا ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ملک فارس اور روم میں آنحضرتۖ کے زمانہ سے آج تک برابر بادشاہ ہوتے چلے آئے ہیں جس کو دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ کسریٰ اور قیصر برابر موجود رہے ہیں، اس لیے کہنا پڑتا ہے کہ اس حدیث سے اس کے ظاہری معنیٰ مراد نہیں، بلکہ حدیث کی مراد یہ ہے کہ اگرچہ قیصر و کسریٰ باقی ہوں گے مگر اسلام کے زیر نگیں ہو کر رہیں گے، ان کی خود مختار سلطنتیں باقی نہ رہیں گی۔ اسی طرح لا نبی بعدی کو سمجھنا چاہیے، یعنی آنحضرت ۖ کے بعد مستقل اور تشریعی نبی نہ ہوں گے بلکہ جو نبی ہوگا وہ آپۖ کا متبع اور آپۖ کی شریعت کا پیرو ہوگا۔

                یہ محض دھوکہ اور بالکل غلط ہے کہ کسریٰ اور قیصر آج تک موجود ہیں۔ نووی شرح مسلم میں اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ امام شافعی اور تمام علماء نے فرمایا ہے کہ حدیث کی مراد یہ ہے کہ کسریٰ عراق میں اور قیصر ملکِ شام میں باقی نہ رہے گا، جس کا حاصل یہ تھا کہ ان دونوں اقلیم میں ان کی سلطنت نہ رہے گی، چنانچہ ٹھیک اسی طرح ہوا، کسریٰ اور کسرویت کا تو بالکل خاتمہ ہوگیا اور قیصر نے ملک شام سے بھاگ کر کسی اور جگہ پناہ لی، غرض ان دونوں اقلیموں میں کسریٰ و قیصر نہ رہے۔

                اس لیے خود یہی کہنا غلط ہے کہ حدیث لا کسریٰ اپنے ظاہر معنیٰ میں مستعمل نہیں ہے، پھر اس پر لا نبی بعدی کو قیاس کرکے اس کی تحریف اگر بناء فاسد علی الفاسد نہیں تو اور کیا ہے۔

                ہاں اس جگہ مرزائی اجتہاد کا ایک اور کرشمہ بھی قابل دید ہے، وہ یہ کہ اگر تھوڑی دیر کے لیے کوئی یہ فرض بھی کر لے کہ حدیث لا کسریٰ کس وجہ سے اپنے ظاہری اور حقیقی معنی میں ہے تو اس سے یہ کیسے لازم آگیا کہ حدیث لا نبی بعدی کو بھی کھینچ تان کر اس کے مطابق بنا دیا جائے، کیا کسی ایک حدیث میں کسی وجہ سے مجازی معنیٰ لے لینا آپ کی شریعت میں اس کو مستلزم ہے کہ کسی حدیث میں اس لفظ کے حقیقی معنیٰ نہ لیے جائیں۔

                ''حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریم ۖ نے فرمایا: کہ میں محمد ہوں، احمد ہوں اور ماحی ہوں یعنی میرے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر ہوں یعنی میرے بعد ہی قیامت آجائے گی اور حشر برپا ہوگا (اور کوئی نبی میرے اور قیامت کے درمیان نہ آئے گا) اور میں عاقب ہوں اور عاقب اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے بعد اور کوئی نبی نہ ہو۔ (صحیح بخاری)

                اور اسی حدیث کے بعض الفاظ میں ہے یحشر الناس علی قدمی جس کی شرح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر نے فتح الباری: صفحہ ٤٠٦، جلد ٦ میں فرمایا ہے:

                ''ممکن ہے کہ قدم سے مراد زمانہ ہو، یعنی جس وقت علامت قیامت کے ظہور کے ساتھ میں اپنے قدم پر کھڑا ہوں گا اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپۖ کے بعد نہ کوئی نبی ہے اور نہ کوئی شریعت۔''

                حافظ کے کلام سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ حدیث ہر قسم کی نبوت کے انقطاع کی خبر دے رہی ہے خواہ پہلی شریعت کے تابع ہو یا شریعت جدیدہ کے ساتھ۔

 






 

Live streaming video by Ustream
 

کتب

ملٹی میڈیا

 
  • audio
  • videos
  • gallery
  • library

فیچرڈ ویڈیو

  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video