القرآن
اللہ کی یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ (اے پیغمبر آپ ان کے حق میں نرم مزاج واقع ہوئے ہیں ۔ اگر آپ (خدانخواستہ) تند مزاج اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب لوگ آپ کے پاس سے تتر بتر ہوجاتے۔ لہذا ان سے درگزر کیجئے، ان کے لیے بخشش طلب کیجئے [١٥٣] اور (دین کے) کام میں ان سے مشورہ کیا کیجئے۔ پھر جب آپ (کسی رائے کا) پختہ ارادہ کرلیں تو اللہ پر بھروسہ [١٥٤] کیجئے۔ (اور کام شروع کردیجئے) بلاشبہ اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب [١٥٥] نہیں آسکتا۔ اور اگر وہ تمہیں بے یارو [١٥٦] مدد گار چھوڑ دے تو پھر اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکے؟ لہذا مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔یہ نبی کے شایانِ شان نہیں[١٥٧] کہ وہ خیانت کرے۔ اور جو شخص خیانت کرے گا وہ قیامت کے [١٥٧۔١] دن اسی خیانت کردہ چیز سمیت حاضر ہوجائے گا۔ پھر ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔بھلا جو شخص اللہ کی رضا کے پیچھے چل رہا ہو وہ اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اللہ کے غضب میں گرفتار [١٥٨] ہو اور اس کا ٹھکانا جہنم ہو؟ اور جہنم تو بہت برُی بازگشت ہے۔اللہ کے ہاں سب لوگوں کے مختلف درجات ہیں اور جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں اللہ انہیں خوب دیکھ رہا ہے
حدیث
سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 853 حدیث مرفوع مکررات 2 متفق علیہ 0 محمد بن ابی عمر عدنی، عبداللہ بن معاذ، معمر، عاصم ابن ابی نجود، ابی وائل، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے ایک روز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوا ہم چل رہے تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کرا دے اور دوزخ سے دور کر دے۔ فرمایا تم نے بہت عظیم اور اہم بات پوچھی ہے اور جس کے لئے اللہ آسان فرما دیں یہ اس کے لئے بہت آسان بھی ہے تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرو نماز کا اہتمام کرو زکوة ادا کرو اور بیت اللہ کا حج کرو پھر فرمایا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں (کی آگ) کو ایسے بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور درمیان شب کی نماز (بہت بڑی نیکی ہے) پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ تتجافی جنوبھم عن المضاجع سے جزاء بماکانوا یعملون تک۔ پھر فرمایا سب باتوں کی اصل اور سب سے اہم اور سب سے بلند کام نہ بتاؤں؟ وہ (اللہ کے حکم کو بلند کرنے اور کفر کا زور توڑنے کیلئے) کافروں سے لڑنا ہے پھر فرمایا میں تمہیں ان سب کاموں کی بنیاد نہ بتاؤں میں نے عرض کیا ضرور بتلائیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا اس کو روک رکھو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی جو گفتگو ہم کرتے ہیں اس پر بھی کیا مواخذہ ہوگا؟ فرمایا اے معاذ لوگوں کو اوندھے منہ دوزخ میں گرانے کا باعث صرف ان کی زبان کی کھیتیاں (گفتگو) ہی تو ہوگی۔ سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 869 حدیث مرفوع مکررات 0 متفق علیہ 0 حرملہ بن یحییٰ، عبداللہ بن وہب، ابن لہیعہ، عیسیٰ بن عبدالرحمن، زید بن اسلم، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک روز مسجد نبوی کی طرف تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں فرمایا کیوں رو رہے ہو؟ میں نے ایک بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی اس کی وجہ سے رو رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے اور جو اللہ کے کسی ولی (متبع شریعت عامل بالسنة) سے دشمنی کرے اس نے اللہ کو جنگ میں مقابلہ کے لئے پکارا۔ اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں ایسے لوگوں کو جو نیک و فرماں بردار ہیں متقی و پرہیزگار ہیں اور گمنام و پوشیدہ رہتے ہیں کہ اگر غائب ہوں تو ان کی تلاش نہ کی جائے حاضر ہوں تو آؤ بھگت نہ کی جائے (ان کو بلایا نہ جائے) اور پہچانے نہ جائیں (کہ فلاں صاحب ہیں) ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں وہ ہر تاریک فتنہ سے صاف بے غبار نکل جائیں گے۔

مولانا محمد الیاس چنیوٹی(ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب ) کادورہ کوٹلی ، سفر کی روئیداد


مولانا محمد الیاس چنیوٹی(ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب ) کادورہ کوٹلی ، سفر کی روئیداد

مولانا محمد الیاس چنیوٹی(ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب ) کادورہ کوٹلی ، سفر کی روئیداد

(تحریر :مولانا محمد رفیق ۔ آئی ٹی انچارج ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ)

                        یہ 2006ءکی بات ہے جب مولانا محمدمقصود کشمیری کی دعوت پر6 روزہ رد قادیانیت کورس کے لیے استاذ محترم مولانا محمدالیاس چنیوٹی آزادکشمیر کے ضلع کوٹلی تشریف لائے تھے جہاں انہوں نے آزادکشمیر کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے طلباءاور مسلمانوں کو تحفظ ختم نبوت کی اہمیت اور رد قادیانیت کورس کے تربیتی اسباق پڑھائے۔ آزادکشمیر کو تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ کہا جاتا ہے اور اس کے کئی اضلاع میں منکرین ختم نبوت قادیانیوں نے اپنی سرگرمیوں کا جال بچھارکھا ہے سب سے زیادہ ارتدادی سرگرمیاں ضلع کوٹلی اور اس کے سرحدی علاقوں میں جاری ہیں ایک رپورٹ کے مطابق صرف ضلع کوٹلی میں قادیانیوں نے ڈیڑھ درجن کے قریب ارتدادی اور کفریہ مراکز قائم کر رکھے ہیں جن کی شکل و صورت مساجد کی طرح ہیں اور سادہ لوح مسلمان دھوکہ دہی سے قادیانی فتنے کا شکار ہو رہے ہیں ۔ خطے میں قادیانیوں کی سرگرمیوں سے متعلق  مولانا محمدمقصود کشمیری نے استاذ محترم مولانامحمد الیاس چنیوٹی کے سامنے ضلع کوٹلی کے حالات بیان کیے اور علاقہ میں قادیانیوں کی سرگرمیوں سے متعلق انتہائی افسوسناک رپورٹ دی کہ علاقہ میں مسلمانوں کو مرزائیوں کی حقیقت کا صحیح علم نہیں اور مرزائی یہ باور کرواتے ہیں کہ ہمارا اور تمہارا کوئی زیادہ اختلاف نہیں ہے یہ ایک فروعی سا مسئلہ ہے اور ہم بھی دوسرے اسلامی فرقوں کی طرح ایک فرقہ ہیں جس سے مسلمان ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے لگے ان کی تقریبات میں شریک ہونے لگے اب تک کئی مسلمان بچیوں کی شادیاںقادیانی لڑکوں کے ساتھ ہو چکی ہیں سرحدی اور دیہاتی علاقوں میں اسلام اور کفر کی تمیز ختم ہوچکی ہے ۔

                        مولانا محمدمقصود کشمیری نے مطالبہ کیا کہ آپ کے والد محترم سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ نے ساری زندگی اس فتنہ کی سرکوبی میں صرف کردی لہٰذا آپ کوٹلی میں اپنا تربیت یافتہ مبلّغ تعینات کریں جو مستقل کوٹلی میں قیام کرے اور لوگوں کو عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور مرزائیوں سے متعلق آگاہی فراہم کرے۔مولانا محمد الیاس چنیوٹی اس رپورٹ کو سن کر بہت فکرمند ہوے کہ کادیانیوں نے کیسے اپنے جھوٹ کو سچ ظاہر کیا اوراپنے ارتداد کے زہر کو تریاق بتلا کر درجنوںمسلمان خاندانوں کے ایمان کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔حضرت مختلف جلسوں میں اس کا اظہار بھی فرماتے رہے اور علماءکرام کو بھی اس طرف متوجہ کیا کہ مرزائیوں نے آزاد کشمیر کو بھی اپنا گڑھ بنا لیا ہے لہٰذا اس طرف بھی توجہ کی جائے ۔مولانا مقصود کشمیری بھی وقتََا فوقتََا یاد دہانی کرواتے رہے اور حضرت نے بھی عزم کرلیا کہ جس طرح انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان دوسرے علاقوں میں کادیانیت کا تعاقب کر رہی ہے آزادکشمیر کے کوٹلی میں بھی اسکا سلسلہ شروع کیا جائے اس کام کیلئے مولانا ظفر اللہ گلگتی کا انتخاب کیا گیا جنہوں نے گزشتہ برس ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ میں تخصص فی رد القادیانیة (ایک سالہ کورس)مکمل کیا تھا۔

                        مورخہ 4ستمبر2013ءبروز بدھ صبح تقریبَ سوا دس بجے مولانا محمد الیاس چنیوٹی، کے ہمراہ مولانا ظفراللہ،اور راقم کوٹلی (آزاد کشمیر )کیلئے روانہ ہوے راستہ میں حضرت مولانا محمد الیاس چنیوٹی نے اس مقصد کیلئے کی جانیوالی کوششوں کا اظہار فرمایا اس راستہ میں پیش آنیوالی تکالیف کو برداشت اور صبر کرنے کی نصیحت فرمائی اور صبر کے نتیجے میں حاصل ہونیوالی کامیابیوں کے کئی واقعات سنائے اور تائید کے طور پر قرآن پاک کی آیت” یاایھاالذین اٰمنوا اصبرو وصابروو رابطوا واتقوااللہ لعلّکم تفلحون“ کی پرمغز تشر یح فرمائی ۔دورانِ سفر حضرت مولانا قاری محمد رفیق وجھوی زیدت حسناتہم (رابطہ سیکرٹری و ناظم شعبہ نشر و اشاعت انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان) سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا انہوں نے اس اقدام کو بہت سراہا او رخوشی کا اظہار فرمایا نیز اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ تقریبََا دن بارہ بجے منڈی بہاﺅالدین پہنچے وہاں پر حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ کے ایک شاگرد سے مختصر ملاقات کی اور اس علاقہ میں ختم نبوت کے کام پر تبادلہ خیال ہوا ۔تقریبا2بجے سپہر میر پور پہنچ گئے جہاں پر مولانا محمد الیاس چنیوٹی کے ماموں زاد بھائی  محمد زین منتظر تھے انہوں نے ایک ہوٹل میں ظہرانے کا انتظام کیا ہوا تھا۔ظہرانے سے فراغت کے بعد مولانا محمد الیاس چنیوٹی نے اپنے دورہ حدیث کے ساتھی مولانا مفتی محمد یونس زیدت حسناتہم سے ملاقات کا ارادہ ظاہر کیا ان سے رابطہ کر کے محمد زین کی رہنمائی میں ملاقات کیلئے روانہ ہوگئے ۔

 

                         جامعہ عربیہ اسلامیہ سیکٹر B/4میر پور میں ظہرکی نماز ادا کی اس کے بعد پر تکلف چائے سے وفد کی تواضع کی گئی مولانا یونس صاحب کو جب اس سفر کا مقصد بتلایا گیا تو وہ بےحد خوش ہوے اور فرمایا کہ میں خود بھی کوٹلی کے حالات سے حد درجہ پریشان تھا اور آپ کے پاس چنیوٹ آنا چاہتا تھا کہ کوٹلی میں کسی مبلغ کو تعینات کریں۔ مزید کچھ مشاورت کے بعد ان سے اجازت طلب کی اور کوٹلی کے لئے رخت سفر باندھا۔جیسے ہی میر پور سے روانہ ہوے تو میر پور کے اطراف کی صورت حال بہت عجیب منظر پیش کر رہی تھی معلوم یہ ہوا کہ منگلا ڈیم میںپانی کا ذخیرہ کافی بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے پانی چاروں اطراف میں کافی حد تک پھیل گیا ہے کئی قصبے و دیہات زیر آب آگئے ہیں ۔کئی جگہوں پر مساجد کے صرف مینار نظر آرہے تھے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ یہاں پر بھی آبادی تھی ۔پاکستان کو روشن رکھنے کے لیے اہل میرپور نے دوسری مرتبہ اپنے آباﺅ اجداد کی قبروں تک کو قربان کیا منگلا جھیل کو دیکھ کر اہل کشمیر کی قربانی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح کروڑوں ، اربوں مالیت کی پراپرٹی کو ڈیم کی نظر کردیا ۔

                        راقم کاآزاد کشمیر کا یہ پہلا سفر تھا قدرتی حسن سے مالا مال سر سبز پہاڑ کشمیر کی خوبصورتی کا عملی نمونہ پیش کر رہے تھے بچپن سے کشمیر جنت نظیر سنتے آرہے تھے اس سفر میں عین الیقین حاصل ہو رہا تھا اور ہندو بنئیے کا گھناﺅنا خواب بھی سمجھ آ رہا تھا کہ وہ کیوں اس خطے پر قابض ہونا چاہتا ہے ؟ ۔ لیکن کشمیر کے غیور سپوت اپنی دھرتی ماں کا ایک انچ بھی انکو دینے کیلئے رضامند نہ ہوے اور اس خواب کی تکمیل کے بھی خواب دیکھتے دیکھتے کتنے بھارتی حکومتی ارکان و فوجی سورما مرگھٹوں پہ اپنی چتا کروا چکے اور کروا رہے ہیں اے کاش کوئی ان تک یہ بات پہنچا دے کہ

                                                 یارانِ جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت

                       اور جنّت کسی کافر کو ملی ہے، نہ ملے گی

                        سفر کے دوران مولانا مقصود کشمیری صاحب سے مسلسل رابطہ رہا ختم نبوت کا یہ مجاہد کئی کلومیٹر کا پہاڑی سفرموٹر سائیکل پر طے کر کے ہمارے استقبال کیلئے پلاک تک آ گیا تھا ۔عصر کی نمازجامعہ تعلیم القرآن نقشبندیہ پلاک میں ادا کی جہاں پر مولانا مقصود کشمیری اور اس جامعہ کے مدیر علامہ عبدالخالق نقشبندی منتظر تھے نماز کے بعد چائے مع لوازمات تواضع کی گئی اس دوران عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ادارہ کے مہتمم علامہ عبدالخالق کو سفر کے متعلق بریف کیا گیا انہوں نے بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مبلغ ختم نبوت کی تعیناتی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کی بھرپور تائید کی اور مکمل اخلاقی تعاون کی پیشکش کی ۔اس ادارہ میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کا شعبہ بھی قائم ہے۔مولانا محمد الیاس چنیوٹی و وفد نے جامعہ تعلیم القرآن کے انداز تعلیم و تربیت کو سراہا۔ جامعہ کی قابل دیدلائبریری میں تمام مکاتب فکر اسلامیہ کی کتب موجود ہیں ۔

مغرب کی نماز کے بعد مسجد عثمان ذو النّورین صادق آباد( راجدھانی )میں مولانا محمد الیاس چنیوٹی کا بیان طے تھا اس لئے مولانا مقصود کشمیری اور راقم موٹر سائیکل پر پلاک سے راجدھانی کیلئے روانہ ہوگئے اور بقیہ حضرات نے مغرب کی نماز پلاک مدرسہ میں ہی ادا کرنے کے بعد یہاں سے روانہ ہونا تھا ۔مغرب کے بعدکچھ دیر راقم کا بیان ہوا جسمیں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اورمولانا منظور احمد چنیوٹی ؒکی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا پھر استاذ محترم مولانا الیاس صاحب کا بیان شروع ہوا حضرت نے بیان کا آغاز حضرت علامہ انور شاہ کاشمیری ؒ کے ملفوظات سے کیا اور اھلِ کشمیر کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوے کوٹلی سفر کا مقصد بیان کیا اور مسلمانوں اور مرزائیوں کے درمیان فرق کو واضح کیا حاضرین نے حضرت کا شکریہ ادا کیاکہ انہوں نے اس حساس مسئلہ کو سمجھانے کیلئے اتنا سفر کیا اورمبلغ کی تعیناتی کے فیصلہ کو خوش آئیند کہا اور مسجد عثمان ذو النّورین کے امام مولانا محمد ابرار صاحب سمیت تمام حضرات نے مکمل تعاون کا اعلان کیا ۔عشاءکی نماز اسی مسجد میں ادا کی اور یہاں سے فراغت کے بعدمولانا مقصود کشمیری اور راقم موٹر سائیکل پر جبکہ دیگر حضرات گاڑی پر ناڑ دڑاں کیلئے روانہ ہو گئے ۔مولانا مقصود صاحب نے یہاں پر جامعہ العلوم الاسلامیہ میں عشائیہ و قیام کا انتظام کر رکھا تھا اس مدرسہ کے مدیر مولانا عبدالحکیم صاحب ہیں جو اس وقت بھی انگلینڈ تھے انہوں نے فون کے ذریعے مولانا محمد الیاس چنیوٹی صاحب سے بات کی اور انہیں ادارہ میں آمد پر ان کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کوٹلی میں ختم نبوت کے کام کے حوالے سے کی جانی والی کوشش کو سراہا اور مبلغ کی تعیناتی پر مبارکباد دی۔

                        جامعہ العلوم الاسلامیہ کے اساتذہ مولانا محمود الحسن (فاضل جامعہ عربیہ رائیونڈ)،مولانا عطاءالرّحمٰن شاہ اور نیاز شاہ صاحب، سید نصیر حسین شاہ صاحب نے بھرپور استقبال اور نہایت ہی خوش سے پیش آئے۔ماشاءاللہ تمام اساتذہ خوش اخلاقی و تقویٰ کی نعمت سے مالا مال ہیں۔اس مدرسہ میں بھی دینی علوم کے ساتھ ساتھ شعبہ علوم عصریہ کے تحت ہائی سکول قائم ہے۔جس کے نگران سید نیاز شاہ صاحب ہیں۔تقریبََا نو بجے رات کھانا چن دیا گیا ،جامعہ العلوم الاسلامیہ کے اساتذہ نے پر خلوص اور پر تکلف کھانے کا انتظام کیا ہوا تھا۔کھانے سے فراغت کے بعد مولانا محمد الیاس چنیوٹی،مولانا مقصود کشمیری،مولانا ظفراللہ(مبلّغ) اور راقم کی رات تقریبا 12 بجے تک مشاورت ہوئی جس میں کوٹلی میں ختم نبوت کا کام کرنے کی ترتیب بنائی گئی اور کئی امور پر تفصیلی گفت و شنید کا سلسلہ جاری رہا ۔مشاورت کے دو ران مولانا محمد الیاس چنیوٹی نے بہت قیمتی نصائح فرمائیں طوالت کے خوف سے صرف ایک قیمتی بات نقل کرنا چاہوں گا ۔حضرت نے فرمایا کہ” ہر میدان میں کامیابی اخلاص پر منحصر ہے اور اخلاص کی علامت آنسو ہے جب آدمی اخلاص سے محنت کرے اور پھر دعا کرے اور اسکے آنسو نکل آئیں تو سمجھو کہ کام ہوگیا ہے ،انشاءاللہ کامیابی اس شخص کے قدم ضرور چومے گی“۔مجلس مشاورت سے فارغ ہو کر آرام کیا ۔صبح فجر کے بعد اسی جامعہ کی مسجد میں حضرت کا درس قرآن تھا ۔مولانا محمد الیاس چنیوٹی نے تقریبََاایک گھنٹہ کے دورانیہ پر مشتمل درس دیا جسمیں اساتذہ و طلباءکے سامنے عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کیلئے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی قربانیوںکو بیان کیا اور کادیانیوں کی تازہ کارستانیو ں کا پردہ چاک کیا۔یہاں سے کوٹلی جانے کا پروگرام طے تھا لہٰذا اساتذہ کرام سے الوداعی مصافحہ کیا اور کوٹلی کیلئے چل پڑے۔راستے میں کشمیری بچے مدرسہ ،سکول جارہے تھے تو انکو دیکھ کر اہلیان کشمیر کو داد دینا پڑی کہ اس قوم نے اتنی قربانیاں دیکر اور تکالیف برداشت کیں لیکن اپنی نئی نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا نہ بھلایا ۔صبح تقریبا 8بجے کوٹلی شہر پہنچ گئے وہاں پر گلستان ہوٹل میں تحریک تحفظ ختم نبوت کوٹلی کے ناظم ڈاکٹر ابرار صاحب نے قیام اوروکلاءکے ساتھ نشست کا پروگرام بنا رکھا تھا ہمار ے پہنچنے کے کچھ دیر بعد ڈاکٹر ابرارصاحب آگئے ان کے ساتھ نسشت میں کوٹلی آمد اور مبلغ ختم نبوت  مولانا ظفراللہ کی تعیناتی کا مقصد بیان کیا ۔ڈاکٹر ابرار مغل نے اس فیصلے کی بھرپور تائید کی اور مکمل تعاون کا یقین دلایا۔اسی دوران وکلاءکا وفد بھی آ گیا جن میں جناب منشاءجمال(بار صدر کوٹلی)،جناب لیاقت مغل(سابق بار صدر)،جناب تبارک سید (ایڈوکیٹ)،جناب راجہ ظہیر خان (ایڈوکیٹ)،جناب سعید صاحب (ایڈوکیٹ)وغیرہ شامل تھے کچھ دیر بعد جناب سردار معروف خان(جنرل سیکرٹری پاکستان مسلم لیگ(ن)کوٹلی)اورسردار امتیاز احمد غوری بھی تشریف لائے ۔کادیانیت کے موضوع پر تفصیلی گفتگو ہوئی ۔ مولانا مقصود کشمیری صاحب نے یہاں پرختم نبوت کے موضوع پر جو ورک کیا ہے وہ واقعتََا نظر آتا ہے ان وکلاءنے بتلایا کہ ہم ختم نبوت کے کئی کیسز کی مفت پیروی کر رہے ہیں۔مولانا محمد الیاس چنیوٹی نے وکلاءسے بات کرتے ہوے کہا کہ ختم نبوت کی اصل خدمت اہل کشمیر نے کی ہے کہ اس فتنہ کی طرف سب سے زیادہ متوجہ کرنےوالے حضرت علامہ مولانا انور شاہ کاشمیری ؒ تھے ان کے دو ملفوظ حاضر ین کوسنائے ۔

ملفوظ نمبر 1۔”میں نے اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ کا مطالعہ کیا ہے لیکن کادیانیت سے بڑھ کر مجھے کوئی فتنہ نظر نہیں آیااپنی تمام قوتیں اس فتنے کی سرکوبی میں صرف کر ڈالو میںتمہارے لئے جنت کا ضامن بنتا ہوں “۔

ملفوظ نمبر 2۔ اگر ہم تحفظ ختم نبوت نہ کر سکیں توگلی کا کتابھی ہم سے بہتر ہے۔

                        مولانا محمد الیاس چنیوٹی نے بتلایا کہ کادیانی مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ ہمارا اور عام مسلمانوں کا کوئی زیادہ اختلاف نہیں ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا کادیانیوں سے بنیادی عقائد کا اختلاف ہے جس میں سر فہرست حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کے بعد نبوت کے جاری ہونے یا نہ ہونے کا ہے ۔حضرت بڑے درد دل سے گفتگو فرما رہے تھے تمام حضرات بڑی سنجیدگی سے گفتگو سن رہے تھے۔( ہمارا کادیانیوں سے کیا اختلاف ہے ؟اس بات کو سمجھنے کیلئے علماءکرام سے رابطہ اور ختم نبوت کورسز میں شرکت ضروری ہے،ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ میں ہر سال شعبان میں دینی مدارس و سکول کالجز کے طلبائ،اساتذہ،پروفیسرز،ڈاکٹرزاور وکلاءکیلئے صرف 15دن کا کورس کروایا جاتا ہے جس کا نصاب سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ نے ترتیب دیا تھا اس کورس میں شرکت کے بعد ختم نبوت کے دلائل ،مرزائیوں کے بنیادی عقائد،ہمارا ان سے اختلاف،کادیانیوںکے کفر کی وجوہات وغیرہ سے مکمل واقفیت حاصل ہو جاتی ہے )۔دوران گفتگو جناب عارف مغل (ایڈوکیٹ ) نے تجویز پیش کی کہ آپ پنجاب اسمبلی میں اہل کشمیر کی حمایت میں بل پیش کریں جس کے جواب میں مولانا محمد الیاس چنیوٹی (ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب)نے کہا”مسئلہ کشمیر پر ہم سب کا مﺅقف ایک ہے ہندو بنیا خود اس مسئلے کو اقوام متحدہ لیکر گیا ہے اس چاہیے کہ اقوام متحدہ نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے مطابق عمل کرے پاکستان کا بچہ بچہ اہلیان کشمیر کے ساتھ ہے بھارت نے کشمیر میں ظلم کی جو تاریخ رقم کی ہے اس پر پوری پاکستانی قوم افسردہ ہے اور اہلیان کشمیر کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتی ہے اور کشمیری عوام بھی پاکستانی عوام کے ساتھ ہے یہی وجہ ہے کہ جب ہم کوٹلی آرہے تھے تو کئی جگہ بورڈز،پینا فلیکس دیکھے جن میںکشمیری بھائیوں نے اپنے جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا تھا ”کشمیر بنے گا پاکستان “۔حضرت نے فرمایا انشاءاللہ بہت جلد کشمیری مسلمانوں کی قربانیاں رنگ لائیں گی اور کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہوگا۔

                        مولانا مقصود کشمیری جو ہمہ وقت ختم نبوت کی فکر لئے پھرتے ہیں انہوں نے اس موقع پر بھی وکلاءسے مطالبہ کیا کہ جس طرح پاکستان کے آئین میں عقیدہ ختم نبوت کی وضاحت ہے اسی طرح آزاد کشمیر کے آئین میں بھی اسکی وضاحت کا اضافہ کیا جائے اور آزاد کشمیر کے صدر،وزیر اعظم ، سپیکراور سینئر وزیر کیلئے بھی پاکستانی آئین کی طرز پر حلف نامہ تیار کیا جائے ۔وکلاءنے مولانا مقصود کشمیری صاحب کے اس مطالبہ کو غور سے سنا اور اس پر عمل درآمد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔مولانا محمد الیاس چنیوٹی صاحب نے بھی آزادکشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے اراکین کے زریعے متعلقہ افراد تک اس مطالبہ کو پہنچانے کا عزم مصمم کیا ۔دیگر حاضرین نے بھی اس مطالبہ کی تائید کی ۔وکلاءنے مولانا ظفراللہ   (مبلّغ ختم نبوت کوٹلی) کے ساتھ مکمل اخلاقی و قانونی تعاون کا یقین دلایا۔مولانا ساجد الرّحمٰن (ضلعی امیرJ.U.Iکوٹلی)بھی تشریف لائے انہوں نے بھی مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔اس گفتگو کے بعد سب نے ناشتہ کیا ۔ناشتہ کی دعوت ڈاکٹر ابرار صاحب کی طرف سے تھی۔ناشتے سے فراغت کے بعد ڈاکٹر ابرار صاحب کی طرف سے وقف کردہ ختم نبوت کے دفتر کے افتتاح کا پروگرام طے تھا ۔سردار معروف خان نے اجازت لینے سے قبل کوٹلی میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کا بھرپور ارادہ کیا (اللہ تعالیٰ ان کے اس ارادہ کو پایہ تکمیل تک پہنچائے آمین)۔

                        ڈاکٹر ابرارصاحب صاحب ہومیو پیتھک ڈاکٹر ہیں اور کوٹلی شہر کی معزز شخصیت ہیںان کے والد محترم حاجی عارف مغل صاحب مرحوم نے کوٹلی میں بہت زیادہ ختم نبوت کا کام کیا ہے ان کے مشن کو جاری رکھتے ہوئے ڈاکٹرصاحب نے اپنی مارکیٹ میں ایک کمرہ ختم نبوت آفس کیلئے وقف کر دیاہے اللہ تعالیٰ انکو جزائے خیر عطا فرمائے اور انکے والدمرحوم کے درجات بلند فرمائے آمین۔

                        تقریبادس بجے مولانا محمد الیاس چنیوٹی صاحب نے کوٹلی میں باقاعدہ دفترختم نبوت کا افتتاح کیااور دعا کروائی ۔افتتاح کے بعد اجازت طلب کی کیونکہ واپسی پر میر پور میں حضرت عبدالحفیظ مکی دامت برکاتہم کے خلیفہ مجاز محترم حاجی بوستان صاحب مہتمم جامعہ العلوم الاسلامیہ سیکٹرF/2 اور مفتی محمد یونس صاحب سے بھی ملاقات کرنا تھی اور رات کو عشاءکے بعد جھنگ میں ختم نبوت کانفرنس تھی جسمیں حضرت نے شرکت کرناتھی۔تقریبَ سوا گیارہ بجے کوٹلی سے واپسی کا سفر شروع ہوااور ایک بجے میر پور پہنچ گئے۔

                         حاجی بوستان صاحب سے جامعہ العلوم الاسلامیہ سیکٹرF/2میرپور میں ملاقات ہوئی ۔ماشاءاللہ جامعہ کانہ صرف تعمیراتی ڈھانچہ خوبصورت ہے بلکہ اساتذہ کرام و طلباءکا طرز عمل،شائستگی،نظافت ہر لحاظ سے جامعہ کی تعلیم و تربیت کی عکاسی ہوتی ہے ۔طلباءکی تعداد تقریبا350ہے جبکہ بنات کیلئے الگ 4منزلہ بلڈنگ میں تعلیم کا سلسلہ جاری ہے۔دینی تعلیم کے علاوہ اس جامعہ میں جنرل نالج،کمپیوٹر لیب ،ٹیکنیکل ورکشاپ کے شعبہ جات بھی قائم ہیں ۔یہاں پر ظہر کی نمازدا کی اور اجازت لیکر جامعہ عربیہ اسلامیہ میر پور میں آمد ہوئی۔مفتی محمد یونس صاحب نے ظہرانہ کا انتظام کیا ہوا تھاکھانا تناول کیا پھر ان کے ساتھ مختصر مجلس مشاورت ہوئی اور انہوں نے میرپور میں عید الااضحیٰ کے بعد ختم نبوت کورس کرانے کا ارادہ فرمایا، تقریبا 3:45 پر واپسی کا سفر شروع ہوا۔

چونکہ اس سفر میں کئی مدارس کی لائبریریز دیکھنے کا موقع ملا ایک بات جو سب میں قدرے مشترک تھی وہ یہ کہ ماشاءاللہ بقیہ تمام موضوعات پر کتب موجود ہیں لیکن ختم نبوت کے عنوان پر بہت کم کتب دستیاب ہیں اس علاقہ کے اہل مدارس سے گزارش ہے کہ وہ اس موضوع سے متعلق کتب بھی ضرور لائبریری میں رکھیں تا کہ ہمارے طلباءکے پاس ختم نبوت سے متعلق بھی بھرپور مواد ہو اور وہ اس علاقہ میں لوگوں کو کادیانی ریشہ دوانیوں سے آگاہ کر سکیں ۔

                                                                                                                        ختم نبوت زندہ باد مرزائیت مردہ باد

 






 

Live streaming video by Ustream
 

کتب

ملٹی میڈیا

 
  • audio
  • videos
  • gallery
  • library

فیچرڈ ویڈیو

  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video