القرآن
اللہ کی یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ (اے پیغمبر آپ ان کے حق میں نرم مزاج واقع ہوئے ہیں ۔ اگر آپ (خدانخواستہ) تند مزاج اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب لوگ آپ کے پاس سے تتر بتر ہوجاتے۔ لہذا ان سے درگزر کیجئے، ان کے لیے بخشش طلب کیجئے [١٥٣] اور (دین کے) کام میں ان سے مشورہ کیا کیجئے۔ پھر جب آپ (کسی رائے کا) پختہ ارادہ کرلیں تو اللہ پر بھروسہ [١٥٤] کیجئے۔ (اور کام شروع کردیجئے) بلاشبہ اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب [١٥٥] نہیں آسکتا۔ اور اگر وہ تمہیں بے یارو [١٥٦] مدد گار چھوڑ دے تو پھر اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکے؟ لہذا مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔یہ نبی کے شایانِ شان نہیں[١٥٧] کہ وہ خیانت کرے۔ اور جو شخص خیانت کرے گا وہ قیامت کے [١٥٧۔١] دن اسی خیانت کردہ چیز سمیت حاضر ہوجائے گا۔ پھر ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔بھلا جو شخص اللہ کی رضا کے پیچھے چل رہا ہو وہ اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اللہ کے غضب میں گرفتار [١٥٨] ہو اور اس کا ٹھکانا جہنم ہو؟ اور جہنم تو بہت برُی بازگشت ہے۔اللہ کے ہاں سب لوگوں کے مختلف درجات ہیں اور جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں اللہ انہیں خوب دیکھ رہا ہے
حدیث
سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 853 حدیث مرفوع مکررات 2 متفق علیہ 0 محمد بن ابی عمر عدنی، عبداللہ بن معاذ، معمر، عاصم ابن ابی نجود، ابی وائل، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے ایک روز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوا ہم چل رہے تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کرا دے اور دوزخ سے دور کر دے۔ فرمایا تم نے بہت عظیم اور اہم بات پوچھی ہے اور جس کے لئے اللہ آسان فرما دیں یہ اس کے لئے بہت آسان بھی ہے تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرو نماز کا اہتمام کرو زکوة ادا کرو اور بیت اللہ کا حج کرو پھر فرمایا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں (کی آگ) کو ایسے بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور درمیان شب کی نماز (بہت بڑی نیکی ہے) پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ تتجافی جنوبھم عن المضاجع سے جزاء بماکانوا یعملون تک۔ پھر فرمایا سب باتوں کی اصل اور سب سے اہم اور سب سے بلند کام نہ بتاؤں؟ وہ (اللہ کے حکم کو بلند کرنے اور کفر کا زور توڑنے کیلئے) کافروں سے لڑنا ہے پھر فرمایا میں تمہیں ان سب کاموں کی بنیاد نہ بتاؤں میں نے عرض کیا ضرور بتلائیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا اس کو روک رکھو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی جو گفتگو ہم کرتے ہیں اس پر بھی کیا مواخذہ ہوگا؟ فرمایا اے معاذ لوگوں کو اوندھے منہ دوزخ میں گرانے کا باعث صرف ان کی زبان کی کھیتیاں (گفتگو) ہی تو ہوگی۔ سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 869 حدیث مرفوع مکررات 0 متفق علیہ 0 حرملہ بن یحییٰ، عبداللہ بن وہب، ابن لہیعہ، عیسیٰ بن عبدالرحمن، زید بن اسلم، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک روز مسجد نبوی کی طرف تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں فرمایا کیوں رو رہے ہو؟ میں نے ایک بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی اس کی وجہ سے رو رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے اور جو اللہ کے کسی ولی (متبع شریعت عامل بالسنة) سے دشمنی کرے اس نے اللہ کو جنگ میں مقابلہ کے لئے پکارا۔ اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں ایسے لوگوں کو جو نیک و فرماں بردار ہیں متقی و پرہیزگار ہیں اور گمنام و پوشیدہ رہتے ہیں کہ اگر غائب ہوں تو ان کی تلاش نہ کی جائے حاضر ہوں تو آؤ بھگت نہ کی جائے (ان کو بلایا نہ جائے) اور پہچانے نہ جائیں (کہ فلاں صاحب ہیں) ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں وہ ہر تاریک فتنہ سے صاف بے غبار نکل جائیں گے۔

ممبر پنجاب اسمبلی مولانا محمد الیاس چنیوٹی کا دورئہ آزاد کشمیر


ممبر پنجاب اسمبلی مولانا محمد الیاس چنیوٹی کا دورئہ آزاد کشمیر

مولانا محمد الیاس چنیوٹی کا دورہ آزاد کشمیر

 

مولانا ابو بکر ، آزاد کشمیر

                انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان کے امیر وممبر پنچاب اسمبلی مولانا محمد الیاس چینیوٹی دامت فیوضہم نے تحریک تحفظ ختم نبوت آزادکشمیر کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد مقصود کشمیری کی دعوت پر11 تا13 جولائی 2012 آزادکشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد کا تین روزہ غیر سرکاری، تبلیغی دورہ کیا اس موقع پر اُن کے ہمراہ راقم کے علاوہ مولانا محمد زبیر بھی ساتھ تھے۔ آزادکشمیر میں قادیانیوں کی ریشہ دوانیاں ایک عرصہ سے جاری ہیں خصوصا آزادکشمیر کے ضلع کوٹلی کے سرحدی علاقوں میں قادیانی سادہ لوح مسلمانوں کو باآسانی گمراہ کرتے ہیں۔

 

منکرین ختم نبوت قادیانیوں کے کفریہ عقائد و نظریات سے سادہ لوح مسلمانوں کو باخبر کرنے اور عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت مسلمانوںکے دلوں میں اجاگر کرنے کے لیے فاتح قادیانیت مولانا محمد منظور چنیوٹی رحمة اللہ علیہ نے بھی کوٹلی اور گرد ونواح کے علاقوں کا سفر کیا اور کوٹلی کے کئی علاقوں میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر بیانات فرمائے۔ مولانا محمد منظور چنیوٹی رحمة اللہ علیہ کے اس عظیم مشن کو جاری رکھتے ہوئے اُن کے فرزند مذہبی و سیاسی جانشین مولانا محمد الیاس چنیوٹی دامت فیوضہم بھی 2007 ءمیں کوٹلی تشریف لائے جہاں انہوں نے 6 روزہ رد قادیانیت کورس پڑھایا اس دوران مولانا محمد الیاس چنیوٹی دامت برکاتہم العالیہ کو کورس کے میزبان مولانا محمد مقصود کشمیری، محترم بھائی جمیل احمد مغل ، اور دیگر کارکنان ختم نبوت نے قادیانیوں کی آزادکشمیر بھر میں ہونے والی سرگرمیوں اور خصوصا علاقہ کوٹلی اور اُس کے گرد و نواح میں منکرین ختم نبوت کی جانب سے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے تمام ہتھکنڈوں سے آگاہ کرتے ہوئے گزارش کی تھی کہ ضلع کوٹلی میں ایک مستقل مبلغ ختم نبوت تعینات کیا جائے ۔حالات و واقعات اور بے پناہ مصروفیات کی وجہ سے کارکنان ختم نبوت کے اس اہم مطالبے پر فوری عمل نہ ہو سکا لیکن مولانا محمد الیاس چنیوٹی دامت فیوضہم دل میں یہ عزم کر چکے تھے کہ اپنے والد رحمة اللہ علیہ کے مشن کو جاری رکھتے ہوئے کوٹلی کے لیے ایک مستقل مبلغ کو عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے وقف کیا جائے گا اس سلسلہ میں انہوں نے اپنے ادارہ دعوت والارشاد چینوٹ میں ایک شاگرد مولانا محمد زبیر کو درس نظامی (شہادة العالمیہ ) کی تکمیل کے بعد تحفظ ختم نبوت اور رد قادیانیت کے موضوع پر خصوصی تخصص کرایا جس کے بعد مولانا محمد الیاس چنیوٹی نے آزادکشمیر میں عقیدہ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے تحریک تحفظ ختم نبوت آزادکشمیر کے ساتھیوں سے رابطہ کیا اور خود آزادکشمیر کے ضلع کوٹلی آنے کی فرمائش کی تاکہ باہمی مشاورت سے آزادکشمیر میں تحفظ ختم نبوت کے کام کو تقویت مل سکے لیکن تحریک تحفظ ختم نبوت آزادکشمیر کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد مقصود کشمیری کی مشاورت سے کوٹلی کے بجائے آزادکشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد کا سفر طے پایا گیا تاکہ عوامی اجتماعات کے علاوہ آزادکشمیر حکومت کے وزراء، بیوروکریٹس اور حکومتی ذمہ داران سے ملاقات کر کے انہیں فتنہ قادیانیت کے کفریہ عقائد و نظریات اور عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے چونکہ آزادکشمیر اسمبلی کو یہ اعزاز حاصل ہے جس نے پوری دنیا میں سب سے پہلے سرکاری طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردی جانے والی قرار داد ختم نبوت پیش کی لیکن بد قسمتی سے وہ قرارداد آج تک آزادکشمیر کے آئین اور قانون میں شامل نہ ہو سکی۔

 

چند ماہ قبل میڈیا میں یہ خبر زیر گردش رہی کہ آزادکشمیر اسمبلی کے ریکارڈ سے قرارداد ختم نبوت کا مسودہ غائب ہو گیا ہے اس تناظر میں بھی آزادکشمیر اسمبلی کے ممبران سے ملاقات ضروری تھی چنانچہ حسب پروگرام صبح بعد نماز فجر چنیوٹ سے استاذ ی مکرم کے ساتھ راقم کے علاوہ مولانا محمد زبیر،بھائی شاہد احمد بھی عازم سفر ہوئے اور ظہر کی نماز اسلام آباد میں ادا کی ۔ اسلام آباد سے میزبان سفرمولانا محمد مقصود کشمیری کے ہمراہ براستہ مری موٹروے مظفرآباد کے لیے اگلا سفر شروع ہوا اور مغرب کے قریب ہم مظفرآباد شہر میں پہنچ گئے۔تحریک تحفظ ختم نبوت آزادکشمیر کے راہنماﺅںکی جانب سے انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان کے امیر وممبر پنچاب اسمبلی مولانا محمد الیاس چنیوٹی دامت فیوضہم کی مظفرآباد آمد پر مختلف اجتماعات اور علمائے کرام کے علاوہ سیاسی راہنماﺅں ، صحافیوں سے ملاقات کا شیڈول پہلے سے طے شدہ تھا جس کے مطابق بعد نماز مغرب پہلا پروگرام مظفرآباد شاہناڑہ میں معروف عالم دین مولانا قاری عبد المالک دامت برکاتہم العالیہ کے قائم کردہ قدیم دینی درسگاہ جامعہ اشاعت القرآن میں اللہ رب العزت کی آخری کتاب قرآن مجید کو اپنے سینے میں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کی تھی ایسے خوش نصیب طلباءکے اعزاز میں دستار بندی کی تقریب منعقد کی گئی تھی جس میں طلباءکے والدین کے علاوہ کئی علمائے کرام اور سیاسی زعماءموجود تھے طلباءکی دستار بندی کے بعد مہمان خصوصی کی حیثیت سے مولانا محمد الیاس چنیوٹی دامت فیوضہم نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور تحفظ ختم نبوت کے محاذپر صحابہ کرام ؓ ، علمائے کرام خصوصا علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری رحمة اللہ علیہ کی تڑپ اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے علماءکو ان کی ذمہ داری کا احساس دلایا ۔پروگرام کے بعد مقامی علمائے کرام نے تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے ہر طرح کی قربانی دینے کا عزم کیا ۔دوسرے دن صبح ناشتے کا پرتکلف انتظام قاری افضل خان صاحب کی جانب سے کیا گیا تھا ناشتے کے بعد قاری محمد افضل خان صاحب کی تجویزپر تجوید القرآن ٹرسٹ کی جانب سے دارلعلوم الاسلامیہ چھتر میںمنعقدہ شرکائے کورس سے بھی عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانیوں کے دجل پر خطاب کیا گیا ۔ طلباءسے خطاب کے بعد مولانا محمد مقصود کشمیری اور سیرت مصطفی کمیٹی کے چیئرمین مولانا عتیق الرحمن دانش کی معیت میں اراکین اسمبلی سے ملاقات کی گئی اس دوران چودھری محمد رشید وزیر تعمیرات عامہ کے علاوہ راجہ ساجد صاحب مشیر برائے صدر، عارف مغل مشیر برائے وزیراعظم، انجینئررفاقت اعوان ممبر کشمیر کونسل سے تفصیلی ملاقات ہوئی جن سے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور آزاد کشمیر اسمبلی کے ممبران کی جانب سے 1973 ءمیں پاس کی جانے والی قرارداد ختم نبوت کے حوالہ سے تفصیلی گفتگو ہوئی اور امریکی کانگریس نے قادیانیوں کو مسلمان تسلیم کرنے کی جوقرار داد پاس کی اس کے خلاف اسمبلی فورم سے مذمت کے بارے اراکین اسمبلی سے بات کی گئی۔ نشست کے اختتام پر وزیر تعمیرات عامہ آزادحکومت چودھری محمد رشید صاحب کو کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقدمہ اور راجہ ساجد صاحب کو ختم نبوت ڈائری پیش کی۔

 

اراکین اسمبلی نے ایم پی اے مولانا محمد الیاس دامت برکاتہم العالی کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمة اللہ علیہ کی ختم نبوت کے محاذ پر خدمات کو سراہا ۔ ممبران اسمبلی سے ملاقات کے بعد پریس کلب مظفرآباد میں حاضری ہوئی جہاں پریس کلب کے صدر واحد اقبال بٹ اور دیگر صحافیوں سے نشست ہوئی انہیں آزادکشمیر دورے کے مقاصد سے آگاہ کرتے ہوئے اپنی صحافتی ذمہ داری کا احساس دلایا۔ پریس کلب کے صحافیوں نے تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں اپنی خدمات پیش کرنے کا وعدہ کیا ۔

 

پریس کلب سے فراغت کے بعد پاکستان مسلم لیگ ”ن“ آزادکشمیر کے نائب صدر چودھری منظور صاحب نے رائل کانٹی نینٹل ہوٹل مظفر آباد میں ایک پر تکلف ظہرانہ دیا جس میں مظفر آباد باغ اور دیگر اضلاع کی مسلم لیگ کی مرکزی 15رکنی باڈی اور یوتھ ونگ نے شرکت کی ن لیگ کے راہنماﺅں سے ملاقات کے دوران ممبر پنچاب اسمبلی نے وزیر اعلی پنچاب میاں محمد شہباز شریف اور پنجاب گورنمنٹ کی اعلیٰ کارکردگی سے ن لیگ کے راہنماﺅں کو آگاہ کیا گیا اس کے ساتھ ساتھ امریکی کانگریس کی قرار داد کی صورت حال پیش کی جس پر پوری قیادت نے امریکی قرارداد کی مذمت کرنے اور ختم نبوت کے محاذ پر کارکنان ختم نبوت سے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس تقریب میں سردار عابد اکبر سیکرٹری جنرل پونچھ ، راجہ فرخ ممتاز آرگنائزر یوتھ ونگ ، چودھری احسن منظور، خواجہ اعظم ، آصف مصفطائی، احمد شاہ، راجہ قیصر مجید، شاہد رانی، غضنفر شاہ، راجہ عمر فاروق، چودھری محمد شاہد کے علاوہ تحریک تحفظ ختم نبوت مظفرآباد کے ناظم قاری عبد القیوم فاروقی ، مولانا عبد الماجد اور دیگر ساتھیوںنے شرکت کی۔ چودھری منظور احمد صاحب نے بتایا کہ 1973 کی قرار داد ختم نبوت پر دستخط کرنے والوں میں انکے دادا چودھری خواجہ محمد عثمان صاحب بھی شامل تھے جو انکے خاندان کے لئے بہت بڑے فخر کی بات ہے۔ مظفرآباد قیام کے دوران صدر پاکستان مسلم لیگ ن آزادکشمیر و قائد حزب اختلاف راجہ فاروق حیدر خان سے بھی ملاقات شیڈول کا حصہ تھی لیکن ان کی اسلام آباد میں مصروفیت اور میٹنگ کی وجہ سے ملاقات نہ ہو سکی تاہم راجہ فاروق حیدر خان وہ خوش قسمت لیڈر ہیں جن کی والدہ محترمہ سعیدہ خانم آزادکشمیر اسمبلی کی وہ واحد خاتون ہیں جنہوں نے 29اپریل 1973 کو آزاد کشمیر اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دی جانے والی قرار داد پر دستخط کیے تھے۔

 

 

            مظفرآباد سے فارغ ہونے کے بعد وادی جہلم کی طرف ہمارا سفر شروع ہوا۔ اسی راستے سے سرینگر مظفرآباد کے درمیان آر پار کی تجارت بھی ہو رہی ہے مظفرآباد سے چند کلو میٹر فاصلے پر چائنا کمپنی نے دریائے جہلم پر سرنگ کے زریعے بجلی کے ایک بہت بڑے منصوبے جسے نیلم جہلم ہائیڈرل پاور کا کام بڑی تیزی سے شروع کیا ہے جو اپنی نوعیت کا منفرد منصوبہ ہے شاہرہ سرینگر پر تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کے سفر کے بعدعصر کی نماز چناری کی مرکزی جامع مسجد میں ادا کی۔ نماز کے بعد علاقہ کے معروف بزرگ عالم دین کی شیخ التفسیر حضرت مولانا محمد الیاس دامت برکاتھم العالیہ سے ملاقات ہوئی حضرت مولانا نے نہایت مسرت کا اظہار کرتے ہوئے خصوصی دعائےں دیں۔

 

چناری سے فارغ ہونے کے بعد مولانا محمد مقصودکشمیری کے آبائی علاقہ شاریاں جو کہ وادی لیپہ کی طرف جانے والا پہلا قصبہ ہے، بازار سے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر واقع علاقہ کی مرکزی اور قدیم درسگاہ جامع مسجد فاروق اعظم ؓ میں پہنچ گئے ۔ پہاڑوں کے دامن میں واقع علاقہ کی خوبصورت ترین جامع مسجد زلزلہ میں شہید ہونے کے بعد ابھی حال ہی میں تعمیر ہوئی ہے۔ بعد نماز مغرب اس مرکزی جامع مسجد فاروق اعظم ؓ میں عقیدہ ختم نبوت کے اہمیت کے موضوع پر تفصیلی بیان ہو ا۔ رات کا قیام شاریاں میں ہی رہا جب کہ دوسرے دن خطبہ جمعہ مولانا محمد الطاف صدیقی کی دعوت پر ہٹیاں بالا کی مرکزی جامع مسجد المصطفی میں حسب شیڈول طے تھا جہاں ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب ہوا ۔اس موقع پر عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کی امتیازی علامات کے موضوع پر بیان ہوا حاضری نے پورے انہماک سے سنا اور ساتھ ساتھ جواب دیتے رہے آخر میں امریکی کانگریس کی قرارداد کی مذمت بھی کی گئی۔

 

اس دن 13 جولائی کی مناسبت سے شہداءجموں کے لئے دعائے مغفرت ہوئی۔ دوپہر کے کھانے کا انتظام ہٹیاں بالا میں ہی تھا جس کے بعد مسجد کے خطیب مولانا الطاف صدیقی اور مسجد کی انتظامیہ کی دعاﺅں کے ساتھ مظفر آباد کی طرف واپسی ہوئی۔ رات کا قیام راولپنڈی میں کرنے کا پروگرام تھا لیکن ہمارے سفر میں شریک چودھری شاہد کے چھوٹے بھائی مولانا زاہد کے بارے میں اطلاع ملی کہ وہ ایبٹ آباد تبلیغی جماعت کے ساتھ آئے ہوئے ہےں چنانچہ آپس کے مشورہ میں طے پایا گیا کہ راولپنڈی جانے کے لیے مری کے بجائے مانسہرہ کی طرف سے سفر کیا جائے تاکہ ایبٹ آباد سے گزرتے ہوئے مولانا زاہد سے ملاقات اور ان کی نصرت ہوجائے۔ مانسہرہ سے گذرتے ہوئے معروف عالم دین مولانا مفتی حبیب اللہ چترالی کی وفات پر انکے اکلوتے بیٹے مولوی عبید اللہ اور دیگر احباب سے تعزیت کی ۔ یوں ہمارا آزادکشمیر کا تین روزہ سفر اختتام پذیر ہوا۔ لیکن اس سفر کی یادیں اور کشمیر کی آبشاریں وہ اختتام نہیں ہو سکتیں انشا ءاللہ بہت جلد آزادکشمیر میں مستقبل مبلغ ختم نبوت مولانا زبیر احمد مقامی ساتھیوں کے ساتھ مل کر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے اپنا کام شروع کریں گے۔ اللہ تعالی سب مسلمانوں کو عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور حضور ﷺ کی ناموس کے تحفظ کے لیے قبول فرمائیں۔






 

Live streaming video by Ustream
 

کتب

ملٹی میڈیا

 
  • audio
  • videos
  • gallery
  • library

فیچرڈ ویڈیو

  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video