القرآن
اللہ کی یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ (اے پیغمبر آپ ان کے حق میں نرم مزاج واقع ہوئے ہیں ۔ اگر آپ (خدانخواستہ) تند مزاج اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب لوگ آپ کے پاس سے تتر بتر ہوجاتے۔ لہذا ان سے درگزر کیجئے، ان کے لیے بخشش طلب کیجئے [١٥٣] اور (دین کے) کام میں ان سے مشورہ کیا کیجئے۔ پھر جب آپ (کسی رائے کا) پختہ ارادہ کرلیں تو اللہ پر بھروسہ [١٥٤] کیجئے۔ (اور کام شروع کردیجئے) بلاشبہ اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب [١٥٥] نہیں آسکتا۔ اور اگر وہ تمہیں بے یارو [١٥٦] مدد گار چھوڑ دے تو پھر اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکے؟ لہذا مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔یہ نبی کے شایانِ شان نہیں[١٥٧] کہ وہ خیانت کرے۔ اور جو شخص خیانت کرے گا وہ قیامت کے [١٥٧۔١] دن اسی خیانت کردہ چیز سمیت حاضر ہوجائے گا۔ پھر ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔بھلا جو شخص اللہ کی رضا کے پیچھے چل رہا ہو وہ اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اللہ کے غضب میں گرفتار [١٥٨] ہو اور اس کا ٹھکانا جہنم ہو؟ اور جہنم تو بہت برُی بازگشت ہے۔اللہ کے ہاں سب لوگوں کے مختلف درجات ہیں اور جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں اللہ انہیں خوب دیکھ رہا ہے
حدیث
سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 853 حدیث مرفوع مکررات 2 متفق علیہ 0 محمد بن ابی عمر عدنی، عبداللہ بن معاذ، معمر، عاصم ابن ابی نجود، ابی وائل، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے ایک روز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوا ہم چل رہے تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کرا دے اور دوزخ سے دور کر دے۔ فرمایا تم نے بہت عظیم اور اہم بات پوچھی ہے اور جس کے لئے اللہ آسان فرما دیں یہ اس کے لئے بہت آسان بھی ہے تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرو نماز کا اہتمام کرو زکوة ادا کرو اور بیت اللہ کا حج کرو پھر فرمایا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں (کی آگ) کو ایسے بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور درمیان شب کی نماز (بہت بڑی نیکی ہے) پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ تتجافی جنوبھم عن المضاجع سے جزاء بماکانوا یعملون تک۔ پھر فرمایا سب باتوں کی اصل اور سب سے اہم اور سب سے بلند کام نہ بتاؤں؟ وہ (اللہ کے حکم کو بلند کرنے اور کفر کا زور توڑنے کیلئے) کافروں سے لڑنا ہے پھر فرمایا میں تمہیں ان سب کاموں کی بنیاد نہ بتاؤں میں نے عرض کیا ضرور بتلائیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا اس کو روک رکھو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی جو گفتگو ہم کرتے ہیں اس پر بھی کیا مواخذہ ہوگا؟ فرمایا اے معاذ لوگوں کو اوندھے منہ دوزخ میں گرانے کا باعث صرف ان کی زبان کی کھیتیاں (گفتگو) ہی تو ہوگی۔ سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 869 حدیث مرفوع مکررات 0 متفق علیہ 0 حرملہ بن یحییٰ، عبداللہ بن وہب، ابن لہیعہ، عیسیٰ بن عبدالرحمن، زید بن اسلم، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک روز مسجد نبوی کی طرف تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں فرمایا کیوں رو رہے ہو؟ میں نے ایک بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی اس کی وجہ سے رو رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے اور جو اللہ کے کسی ولی (متبع شریعت عامل بالسنة) سے دشمنی کرے اس نے اللہ کو جنگ میں مقابلہ کے لئے پکارا۔ اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں ایسے لوگوں کو جو نیک و فرماں بردار ہیں متقی و پرہیزگار ہیں اور گمنام و پوشیدہ رہتے ہیں کہ اگر غائب ہوں تو ان کی تلاش نہ کی جائے حاضر ہوں تو آؤ بھگت نہ کی جائے (ان کو بلایا نہ جائے) اور پہچانے نہ جائیں (کہ فلاں صاحب ہیں) ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں وہ ہر تاریک فتنہ سے صاف بے غبار نکل جائیں گے۔

توہین رسالت کا تسلسل ........مو¿ثر حکمت عملی کی ضرورت


توہین رسالت کا تسلسل ........مو¿ثر حکمت عملی کی ضرورت

توہین رسالت کا تسلسل ...موثر حکمت عملی کی ضرورت

 

توصیف احمد

                اُمت مسلمہ کے رستے زخموں پر ایک مرتبہ پھر نمک پاشی کی گئی۔ روئے زمین پر بسنے والے تمام مسلمانوں کے دل ایک مرتبہ پھر مجروح ہوئے۔یہودی لابی اپنے مذموم مقاصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں سرگرم عمل ہے۔ آسیہ ملعونہ کیس کی صدائے باز گشت ابھی سنائی دے رہی تھی کہ فضاءمیں رمشاءمسیح کیس کی صداءگونجنے لگی ،نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں ،این جی اوز اور انسانیت کے نام پر انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والے مغرب کے ہرکارے ایک مرتبہ پھر متحرک ہوئے اور رمشاءمسیح کیس کو دبانے کی کوششیں کیں اور اس کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ۔اس کے ساتھ ساتھ گستاخانہ فلم کے ذریعے رسولﷺکی ذات گرامی کے بارے میں سخت نازیبا الفاظ استعمال کئے گئے۔

 

11 ستمبر کو جاری ہونے والی اس گستاخانہ فلم کے بعد تمام مسلم ممالک میں بے چےنی کی لہر دوڑ اٹھی تہران ،انڈونیشیا ، مصر، لیبیا،افغانستان ،اور پاکستان سمیت تمام ممالک میںاحتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ احتجاج کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ اسلام مخالف فلم کے فرضی کردار سام باسےلے (SAM BACILE)کواپنے کئے پر معافی مانگنی چاہیے تھی۔

 

لیکن طرفہ تماشہ کہ اس ملعون نے فلم کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج پر مسلمانوں کو صبر کرنے کی تلقین کی ہے اور نعوذباللہ اسلام کے بارے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ ”اسلام کینسر ہے۔“یہودی سرمائے سے بننے والی اس فلم کے پس پشت امرےکی اشےرباد کافی حد تک کار فرما ہے امریکی صدر باراک اوبامہ نے بھی اس کی مذمت نہیں کی جو کہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ان واقعات کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ ایک تاریخی تسلسل ہے ۔ان واقعات کے نتیجے میں مسلمانوں کی مذہبی و دینی حمیت کا ٹمپریچرچیک کیا جاتا ہے۔ گاہے بگاہے اس طرح کے مذموم کردار سامنے لائے جاتے ہیں ۔

 

ہر بارجانچنے اور پرکھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کی بے لگام کوریج کے نتیجے میں حیا باختہ عوام میں مذہبی غیرت کس حد تک موجود ہے ۔برصغیرپاک و ہندمیں کتاب ” رنگیلے رسول“ کے مصنف سے لیکر فلم”مسلمانوں کی معصومیت “ تک اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔ہر بار مسلمان ان کو اس معاملے میں کفر کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنتے نظر آئے ۔تمام تر مسلکی اختلاف کے باوجود توہین رسالت کے مسئلے میں تمام مسالک کی بے مثال یکجہتی کفر کے منہ پر طمانچہ ہے ۔اسی اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ۔اب کی بار عرب دنیا میں بیداری کی لہرخوش آئند ہے۔

 

ان واقعات کے نتیجے میں راقم اس حد تک پہنچتا ہے کہ جب کبھی توہین رسالت کا کوئی ملزم توہین کا ارتکاب کرتا ہے تو مغربی ہرکارے پاگل کتوں کی طرح اس کی آزادی کے لئے کوشاں ہو جاتے ہیں ۔ اس کے لئے اول طریقہ جو اختیار کیا جاتا ہے وہ ملزم کو ذہنی طور پر نادرست قرار دینے کا چربہ ہوتا ہے ۔اس کے لئے میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کیے جاتے ہیں ۔اگر ےہ چربہ کامیاب نہ ہو تو عالمی استعمار کے ذریعے مقتدر قوتوں پر دباﺅ ڈال کر ملزم یا ملزمہ کو دائیں بائیں کر کے معاملہ ٹھنڈا ہونے کے نتیجے میں بیرونی آقاﺅں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

 

اس ضمن میں پہلی بات تو یہ ہے کہ ملزم کا ذہنی توازن صرف اس حد تک خراب ہوتا ہے کہ وہ قرآن پاک یا نبی پاکﷺکی ذات کے خلاف یاوہ گوئی کا ارتکاب کرتا ہے وہ کسی اور کے خلاف ہرزہ سرائی کیوں نہیں کرتا۔ دوسری با ت یہ کہ انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیمیں صرف مجرموں کو پناہ دینے کے لئے کیوں سرگرم ہوتی ہیں ؟اقلیتوں کے حقوق کا کیوں اتنا پرچار کیا جاتا ہے؟

 

پوری دنیا میں مسلمان ماﺅں ، بہنوںاور بیٹیوں خصوصاًڈاکٹر عافیہ کی ظلم پر مبنی سزا اور قید و بند کی صعوبتیں ان کے پتھر دلوں کو کیوں نہیں پسیجتیں۔۔۔؟انسانیت کے حقوق کا ڈھنڈوراپیٹنے والوں کا دوہرا معیار محل نظر ہے ۔تیسری بات جو اس طرح کے واقعات کے نتیجے میں سامنے آتی ہے وہ یہ کہ مسلم ممالک میں توہین رسالت کے خلاف قوانین کو ختم کرنے کے لئے مقتدر قوتوں پر دباﺅ بڑھا دیا جاتا ہے ۔

 

گزشتہ برس 295/c کے خاتمے کے لئے شیری رحمان کا اسمبلی میں بل پیش کرنا اور پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کا اس کی حمایت کرنا اسی سلسلے کی کڑی تھی ۔ ملعون سلمان رشدی ،ملعونہ آسیہ ، رمشا مسےح اور حال میں گستاخانہ فلم کے ہدایتکار سام باسیلے اور ان کے ہمنواﺅں کویہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان کی زہر آلود زبان اور قلم کے استعمال سے نبی آخر الزمان محمدﷺکی ذات میں ذرا برابر بھی کمی نہیں ہوتی بلکہ اس کے نتےجے میں پوری دنیا سے احتجاج کے ذریعے عالمی استعماراور کفریہ طاقتوں تک یہ بات پہنچ جاتی ہے کہ آپ ﷺ کے ماننے والے اور آپ ﷺ سے والہانہ محبت رکھنے والے غازی علم الدین شہید کے روحانی فرزند آج بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں۔

 

تاہم مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم (او آئی سی)اور تمام مسلم ممالک کے سربراہان کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اس فلم کے ہدایتکار سام باسیلے کو اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہ مسلمانوں سے ان کی دل آزاری کرنے پر معافی مانگے ۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ متعلقہ ممالک کے ساتھ اجتماعی طور پرسوشل بائیکاٹ کیا جائے تمام مسلم ممالک (یو ٹیوب)پر پابندی عائد کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ انفرادی سطح پر ہر مسلمان سنت رسولﷺکے ساتھ محبت اورآپ ﷺ کی اطاعت اور فرمانبرداری کو اپنا شعار بنائے، آپ ﷺ کے مبارک طریقوں کو اپنی زندگی میں ڈھالنے کی کوشش کرے۔ اس کے نتیجے میں آپ ﷺ کی سنتوں کا احیاءہوگا اور کفر کا منہ کالا ہوگا۔یہ دشمن کو ایسا جواب ہے کہ ان کی آنے والی نسلیں بھی اس جیسے مذموم افعال و حرکات سے بچیں گی۔

 






 

Live streaming video by Ustream
 

کتب

ملٹی میڈیا

 
  • audio
  • videos
  • gallery
  • library

فیچرڈ ویڈیو

  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video