القرآن
اللہ کی یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ (اے پیغمبر آپ ان کے حق میں نرم مزاج واقع ہوئے ہیں ۔ اگر آپ (خدانخواستہ) تند مزاج اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب لوگ آپ کے پاس سے تتر بتر ہوجاتے۔ لہذا ان سے درگزر کیجئے، ان کے لیے بخشش طلب کیجئے [١٥٣] اور (دین کے) کام میں ان سے مشورہ کیا کیجئے۔ پھر جب آپ (کسی رائے کا) پختہ ارادہ کرلیں تو اللہ پر بھروسہ [١٥٤] کیجئے۔ (اور کام شروع کردیجئے) بلاشبہ اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب [١٥٥] نہیں آسکتا۔ اور اگر وہ تمہیں بے یارو [١٥٦] مدد گار چھوڑ دے تو پھر اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکے؟ لہذا مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔یہ نبی کے شایانِ شان نہیں[١٥٧] کہ وہ خیانت کرے۔ اور جو شخص خیانت کرے گا وہ قیامت کے [١٥٧۔١] دن اسی خیانت کردہ چیز سمیت حاضر ہوجائے گا۔ پھر ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔بھلا جو شخص اللہ کی رضا کے پیچھے چل رہا ہو وہ اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اللہ کے غضب میں گرفتار [١٥٨] ہو اور اس کا ٹھکانا جہنم ہو؟ اور جہنم تو بہت برُی بازگشت ہے۔اللہ کے ہاں سب لوگوں کے مختلف درجات ہیں اور جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں اللہ انہیں خوب دیکھ رہا ہے
حدیث
سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 853 حدیث مرفوع مکررات 2 متفق علیہ 0 محمد بن ابی عمر عدنی، عبداللہ بن معاذ، معمر، عاصم ابن ابی نجود، ابی وائل، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے ایک روز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوا ہم چل رہے تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کرا دے اور دوزخ سے دور کر دے۔ فرمایا تم نے بہت عظیم اور اہم بات پوچھی ہے اور جس کے لئے اللہ آسان فرما دیں یہ اس کے لئے بہت آسان بھی ہے تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرو نماز کا اہتمام کرو زکوة ادا کرو اور بیت اللہ کا حج کرو پھر فرمایا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں (کی آگ) کو ایسے بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور درمیان شب کی نماز (بہت بڑی نیکی ہے) پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ تتجافی جنوبھم عن المضاجع سے جزاء بماکانوا یعملون تک۔ پھر فرمایا سب باتوں کی اصل اور سب سے اہم اور سب سے بلند کام نہ بتاؤں؟ وہ (اللہ کے حکم کو بلند کرنے اور کفر کا زور توڑنے کیلئے) کافروں سے لڑنا ہے پھر فرمایا میں تمہیں ان سب کاموں کی بنیاد نہ بتاؤں میں نے عرض کیا ضرور بتلائیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا اس کو روک رکھو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی جو گفتگو ہم کرتے ہیں اس پر بھی کیا مواخذہ ہوگا؟ فرمایا اے معاذ لوگوں کو اوندھے منہ دوزخ میں گرانے کا باعث صرف ان کی زبان کی کھیتیاں (گفتگو) ہی تو ہوگی۔ سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 869 حدیث مرفوع مکررات 0 متفق علیہ 0 حرملہ بن یحییٰ، عبداللہ بن وہب، ابن لہیعہ، عیسیٰ بن عبدالرحمن، زید بن اسلم، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک روز مسجد نبوی کی طرف تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں فرمایا کیوں رو رہے ہو؟ میں نے ایک بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی اس کی وجہ سے رو رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے اور جو اللہ کے کسی ولی (متبع شریعت عامل بالسنة) سے دشمنی کرے اس نے اللہ کو جنگ میں مقابلہ کے لئے پکارا۔ اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں ایسے لوگوں کو جو نیک و فرماں بردار ہیں متقی و پرہیزگار ہیں اور گمنام و پوشیدہ رہتے ہیں کہ اگر غائب ہوں تو ان کی تلاش نہ کی جائے حاضر ہوں تو آؤ بھگت نہ کی جائے (ان کو بلایا نہ جائے) اور پہچانے نہ جائیں (کہ فلاں صاحب ہیں) ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں وہ ہر تاریک فتنہ سے صاف بے غبار نکل جائیں گے۔

50 فتح مباہلہ پر قادیانیوں کی ہرزہ سرائی اور ان کے جوابات


50 فتح مباہلہ پر قادیانیوں کی ہرزہ سرائی اور ان کے جوابات

50 فتح مباہلہ پر قادیانیوں کی ہرزہ سرائی اور ان کے جوابات

الحمد ﷲ وحدہ والصلوٰة والسلام علی من لا نبی بعدہ،

اما بعد فاعوذ باﷲ من الشیطن الرجیم بسم اﷲ الرحمن الرحیم

۔قال اﷲ تعالیٰ: فمن حاجک فیہ من بعد ما جاءک من العلم فقل تعالو ا ند ع ابناءنا و ابناءکم و نساءنا و نساءکم وانفسنا وانفسکم ثم نبتھل فنجعل لعنت اﷲ علی الکاذبین ۔صدق اﷲ العظیم ۔             

   (سورت اٰل عمران:61)

 

 یا رب صل و سلم دائما ابداً علی حبیبک خیر الخلق کلہم۔

ترجمہ : پھر اگر یہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں تم سے جھگڑا کریں اور تم کو حقیقت حال تو معلوم ہوہی چلی ہے تو ان سے کہنا کہ آو  ہم اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بلائیں تم اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بلا آئیں  اور ہم خود بھی آئیں تم خود بھی آو اور پھر دونوں فریق( خداسے) دعا و التجا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت بھیجیں ۔

                               

                محترم مشاہدین کرام، مباہلہ ایک قرآنی عمل ہے حق و باطل کے درمیان خدائی فیصلہ کا نام ہے جب دلائل سے کوئی چیز طے نہ ہو اور دونوں فریق اپنے دعویٰ کے سچا ہونے پر تلے ہوئے ہوں تو اس وقت دونوں فریق ایک جگہ پر اکٹھے ہوتے ہےں اور اﷲ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑا کر دعا کرتے ہےں کہ اے اﷲ تو ہی ہمارے درمیان فیصلہ کردے کہ ہم میں سے سچا کون ہے پھر جھوٹے پر خدا کی پھٹکار پڑتی ہے چنانچہ نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد جو               

شرحبیل بن وداعہ ہمدانی ،عبداﷲ بن شرحبیل اصبحی اور جبار بن فیض حارثی پر مشتمل تھا، حضور ﷺ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت پر جھگڑنے لگا۔ عیسائی اس دعویٰ پر مصر تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی الہ ہےں تو اﷲ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ حق بات تو آپ کے پاس آچکی اس کے باوجود اگر یہ لوگ آپ سے جھگڑتے ہےں تو پھر ان کو دعوت مباہلہ دیدو۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ آپ ﷺنبی بر حق ہیں اگر آپ نے بد دعا کردی تو ہم سب ہلاک ہوجائیں گے زمین پر ایک بال یا ایک ناخن بھی ہمارا باقی نہ رہے گا۔چنانچہ ان عیسائیوں نے آپﷺ کو ہی اپنا حاکم تسلیم کرلیا ۔ حضور ﷺ نے بھی فرمایا کہ اگر یہ لوگ مباہلہ کیلئے آجاتے تو انسان تو انسان ان کے جانور بھی ہلاک ہوجاتے

مولانا منظور احمد چنیوٹی کی مرزا بشیر الدین محمود کو دعوت مباہلہ

                اس کا پس منظر یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دور میں مختلف لوگوں کو دعوت مباہلہ مناظرہ دیتا رہا جن کا حال ہم باحوالہ آپ کے سامنے رکھتے ہےں ۔آخر 24فروری 1899کو مرزاقادیانی نے ،جے ایم ڈوئی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور کی عدالت میں اقرارکیا کہ میںاس بات سے بھی پرہیز کروں گا کہ مولوی ابو سعید محمد حسین یا ان کے کسی دوست یا پیرو کواس امر کے مقابلہ کیلئے بلاوں ںنیز جہاں تک میرے احاطہ طاقت میں ہے میں ان تمام اشخاص کو جن پر میرا کچھ اثر یا اختیار ہے ترغیب دوں گا کہ وہ بھی بجائے خود اس طریق پر عمل کریں جس طریق پر کاربند ہونے کا میں نے دفعہ 1,2,3,4,5,6میں اقرار کیا ہے۔اس اقرار نامہ پر مرزا غلام قادیانی ان کے وکیل خواجہ کمال الدین اور جے ایم ڈوئی کے دستخط موجود ہیں۔ مسلمان سمجھتے کہ چونکہ عدالت میں ایک معاہدہ طے پاگیا ہے اس لئے اب مباہلہ کے چکروں میں نہیں پڑنا چاہےے لیکن بعد کے قادیانی اپنے مرشد کی مخالفت کرتے ہوئے گاہے گاہے اپنے کفر و الحاد کو سچا دکھانے کیلئے دعوت مباہلہ کا چکر چلاتے رہتے۔تب میرے والد ماجد مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمة اﷲ علیہ نے سوچا کہ اگر مسلمانوں کی طر ف سے ایسی ہی خاموشی رہی تو قادیانی اس کو ہماری کمزوری سمجھ لیں گے اس لئے آپ نے 6جنوری 1956کو پہلی مرتبہ قادیانیوں کے دوسرے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود کو ایک رجسٹری خط کے ذریعہ دعوت مباہلہ بھیجی اس خط کی نقل ملاحظہ فرمائیں ۔.... وصولی کی رسید تو 10جنوری 1956کو آگئی لیکن دعوت کا کوئی جواب نہ آیا تو دوبارہ مورخہ 22جنوری 1956کو پھر خط لکھا ۔ خط و کتابت کا یہ سلسلہ تقریباً 7سال تک چلتا رہا اور آخر26فروی 1963کوطے شدہ شرائط کے مطابق مولانا منظور احمد چنیوٹی مقام مباہلہ پر پہنچ گئے مگر قادیانی سربراہ یا اس کا کوئی نمائندہ میدان مباہلہ میں نہ آیا۔اس یاد میں ہر سال 26فروری کو فتح مباہلہ کے نام سے قادیانیوں کو مباہلہ کا چیلنج دیا جاتا اور اس فتح کی یاد منائی جاتی رہی مگر مرزا بشیر الدین محمود سے لیکر موجودہ سربراہ تک کسی نے مقابلہ میں آنے کی جرات نہ کی۔ہم نے 26فروری 2012کو 50ویں سالانہ فتح مباہلہ کانفرنس ایوان اقبال لاہور میں منعقد کی جوقادیانی جماعت کو ہضم نہ ہوئی۔اس کے ازالہ کیلئے انہوں نے باقاعدہ اپنے ٹی وی پروگرام میں ایک مبشر نامی کالر کا جواب دیتے ہوئے مباہلہ کے پس منظر کے نام سے خلاف واقعہ باتیں ذکر کیںاور تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے مباہلہ کے بارے اشکالات پیش کئے ۔مجھے انگلینڈ ،سعودی عرب اور پاکستان کے سامعین اور مشاہدین کی طرف سے اصرار ہونے لگا کہ ان اشکالات کا رفع ضرور ہونا چاہےے چنانچہ ریکارڈ کی درستگی اور مرزائیوں کی روایتی کذب بیانی کا پردہ چاک کرنے کیلئے میں نے ضروری سمجھا کہ ایک نشست میں ان تمام اشکالات کا تاریخی اور تحقیقی حوالہ جات سے جواب دیا جائے اور اصل حقیقت واضح کی جائے ۔یو ٹیوب پر جاری اس ویڈیو ٹیپ میں جو اعتراضات یا اشکالات پیش کئے گئے نمبروار میں ان کا جواب پیش کرتا ہوں:

اعتراض نمبر1:

مرزا قادیانی نے سو سال پہلے انجام آتھم میں تمام علماءکو نام لیکر دعوت مباہلہ دی ہے مگر اس کا کوئی جواب نہیں آیا؟

 

٭جواب:

 انجام آتھم مرزا قادیانی نے 27جولائی 1896کوعبداﷲ آتھم پادری کے مرنے کے بعد لکھی جس کے صفحہ 69سے 73تک ان علماءو مشائخ کے نام مذکور ہیں جنہیں مرزا قادیانی نے دعوت مباہلہ دی تھی ان میں مولوی محمد حسین بٹالوی ،مولوی غلام دستگیر قصوری ، مولوی عبدالحق غزنوی کے نام بھی موجود ہیں ۔ان حضرات کے متعلق حقیقت حال کچھ اس طرح ہے کہ:

(۱)  1892-93 میں مولوی غلام دستگیر قصوری مرزا قادیانی کے پیچھے پھرتے رہے کہ آو مجھ سے مناظرہ کرو لیکن مرزاقادیانی حیلے بہانے کرکے ٹالتا رہا ....                                  (دیکھیں رئیس قادیان مصنفہ مولانا محمد رفیق دلاوری حصہ اول ص361باب67)

(۲) مرزا قادیانی نے 25اپریل 1893کو علماءکو دعوت مباہلہ دی تو اس کے جواب میں مولوی محمد عبداللہ ٹونکی ، مولوی غلام دستگیر قصوری ،مولوی محمد حسین بٹالوی ،مولوی عبدالحق دہلوی مصنف تفسیر حقانی ،مولوی محمد لدھیانوی اور ان کے بھائیوں نے جوابی طور پر دعوت مباہلہ قبول کرنے کے اشتہار شائع کئے لیکن مرزا قادیانی کو سانپ سونگھ گیا اور اس نے خاموشی اختیار کرلی۔                                 (دیکھیں رئیس قادیان)

(۳)  27مئی 1893کومرزاقادیانی کا مولوی عبدالحق سے مباہلہ امرتسر میں ہوا تو اس کا نتیجہ یہ نکلاکہ مرزاقادیانی کا ایک رشتہ دار میر محمد سعید اور مرید یوسف خان عیسائی ہوگیا۔(کتاب البریہ ص143)

                مولوی محمد حسین بٹالوی نے کئی دفعہ مباہلہ و مناظرہ کی دعوت دی جس پر رسالہ اشاعة السنة کے صفحات گواہ ہیںلیکن مرزاقادیانی نے وہ دعوت قبول نہ کی بلکہ 24فروری1899کو مسٹر جے اےم ڈوئی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور کی عدالت میں چھ نکاتی توبہ نامہ لکھ دیا اس کی پانچویں شق یہ تھی :

”میں اس بات سے بھی پرہیز کروں گا کہ مولوی ابو سعید محمد حسین یا ن کے کسی دوست یا پیرو کو اس امر کے مقابلہ کیلئے بلاوں کہ وہ خدا کے پاس مباہلہ کی درخواست کریں تاکہ وہ ظاہر کرے کہ فلاں مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے نہ میں ان کو یا ان کے کسی دوست یا پیرو، کو کسی شخص کی نسبت کوئی پیش گوئی کرنے کیلئے بلاوں گا۔“ نیز یہ بھی اقرار کیا کہ میں اپنے حلقہ اثر میں اس طریقہ پر عملدرآمد کی ترغیب دوں گا جس کا میں نے خود اقرار کیا ۔ کیا اس توبہ نامہ کے بعد مرزا قادیانی اور اس کے جانشینوں کی جانب سے دعوت مباہلہ کی کوئی حیثیت باقی رہ جاتی ہے ؟؟

                مرزا قادیانی کو 1893میں ملک کے نامور علماءنے دعوت مباہلہ دی جو اس نے قبول نہ کی تو 1896میں اس کی علماءو مشائخ کے نام دعوت مباہلہ کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے ؟

 

 

اعتراض نمبر2:

 مولانا چنیوٹی مقامی محلہ کی مسجدکے پیش امام تھے او رمرزا محمود ہزاروں قادیانیوں کے امام تھے!!

 

٭جواب:

دجل و فریب کے پیروکار قادیانی اس بات کو کیسے چھپا سکتے ہےں جس سے ایک دنیا واقف ہے کہ مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمہ اﷲ کسی مقامی محلہ کی مسجد کے پیش امام نہیں تھے بلکہ چنیوٹ شہر کی مرکزی جامع مسجد ”مسجد صدیق اکبر“ کے تقریباً0 5سال خطیب بے بدل رہے ہیں اور اسی مسجد کے منبر و محراب سے ہمیشہ وقت کے فرعونوں کو للکارتے رہے ۔قادیانی قرآن و حدیث سے یہ ثابت کریں کہ دعوت مباہلہ کیلئے فریقین کا ہر لحاظ سے برابر ہونا ضروری ہے ؟نبی کریم ﷺ جب نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ کےلئے تشریف لائے تھے تو کیا معاذاﷲ دونوں فریق برابر حیثیت رکھتے تھے؟ایک طرف امام الانبیاءﷺ اپنے اہل بیت کے ساتھ تشریف لارہے ہیں اور دوسری طرف چند عیسائی !! حق بات کو ثابت کرنے کیلئے چھوٹے بڑے کی کوئی تمیز نہیں ہے یہ تو غیرت ایمانی کا تقاضا ہوتا ہے کہ جو اپنے آپ کو پیش کردے۔

جواب نمبر2:

مرزاقادیانی نے مولانا محمد حسین بٹالوی، مولانا رشید احمد گنگوہی ، شاہ سلیمان تونسوی ، پیر مہر علی شاہ ، خواجہ غلام فرید وغیرہ اکابر کو دعوت مباہلہ دی تھی کیا مرزا قادیانی ان علماءو مشائخ کے برابر معیار رکھتا تھا؟؟ پھر مرزا قادیانی کے متبعین کو اپنے سربراہ کے مرتبہ کی اتنی فکر ہے مگر مرزا صاحب نے اپنے بارے میں تو یہ شعر کہا ہے کہ

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں                         ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

                                                                                                                (روحانی خزائین ج21ص127)

کہاں گیا مرزا صاحب کا مرتبہ اور مقام !!!

 

اعتراض نمبر3:

قادیانی سربراہ بھی علماءکو دعوت مباہلہ دیتے رہے ہیں مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ؟

 

٭جواب:

 یہ اسی طرح کا سفید جھوٹ ہے جیسے مرزا قادیانی کو سچا نبی کہنا۔قادیانی سربراہان نے اگر علماءکو دعوت مباہلہ دی ہوتی تو علماءاسے لازماً قبول کرتے ۔علماءنے 1910سے 1925کے دوران خاص قادیان میں ختم نبوت کانفرنسیں کیں اور قادیانیوں کی مار پیٹ کانشانہ بنے۔ انہیں قادیانی سربراہوں کی دعوت مباہلہ قبول کرنے میں کیا رکاوٹ تھی جو علماءقادیانیوں کے مظالم برداشت کرسکتے تھے وہ دعوت مباہلہ بھی قبول کرسکتے تھے۔ قادیانی جو کچھ کہتے ہےں اصل حقائق اس سے برعکس ہےں ۔قادیان کے ایک رہائشی مولانا عبدالکریم نے قادیان سے ایک ہفت روزہ اخبار جاری کیا جس نام ”مباہلہ“ تھا۔ اس اخبار کے ہر شمارہ میں جلی قلم سے مرزا بشیرالدین محمود کا کوئی نہ کوئی جنسی کرتوت لکھ کر اسے دعو ت مباہلہ دی جاتی تھی۔ مرزا محمود نے دعوت مباہلہ قبول کرنے کی بجائے عبدالکریم مباہلہ کے گھر رات کی تاریکی میں آگ لگوا دی اور بزعم خویش اسے ختم کردیا ۔جبکہ عبدالکریم مباہلہ مخبری ہونے پر قبل از وقت مکان چھوڑ کر بٹالہ چلا گیا یوں مرزا محمود کی یہ قاتلانہ سازش ناکام ہوئی ۔اخبار مباہلہ کا ایک ہی مطالبہ ہوتا تھا کہ مرزا محمود موکدبعذاًب قسم اٹھائے کہ وہ کبھی فاعل یا مفعول نہی رہا۔

                3ستمبر 1935کو قادیانیوں نے اپنے اخبار الفضل میں مجلس احرار کے رہنماوں کو دعوت مباہلہ دی ۔ احرار رہنما مولانا مظہر علی اظہر، صاحبزادہ سید فیض الحسن ، ماسٹر تاج الدین انصاری ، مولانا محمد حیات (استاذ مولانا منظور احمد چنیوٹی ) وغیرہ قادیان پہنچے تو ان کا عظیم الشان استقبال ہوا جس سے قادیانی خوف زدہ ہوگئے اوروہ مباہلہ کےلئے میدان میں آنے کی جرات نہ کرسکے۔ اس خفت کو مٹانے کیلئے قادیانیوں نے نومبر 1935میں احرار کو دوبارہ دعوت مباہلہ دی پھر خود ہی اس سے انکاری ہوگئے مگر احرار نے ان کی دعوت قبول کرکے 18نومبر 1935کی تاریخ مقرر کردی جس پر قادیانیوں نے شور مچا کر قادیان میں احرار راہنماوں کے داخلہ پر پابندی لگوادی ۔

 

اعتراض نمبر4:

مولانا چنیوٹی نے کما ل ذہانت سے دعوت مباہلہ کیلئے وہ وقت منتخب کیا جب مرزا بشیر الدین محمود شدید بیمار تھے ۔

 

٭جواب:

 یہ سفید جھوٹ ہے مولانا چنیوٹی رحمہ اﷲ نے مرزا محمود کو دعوت مباہلہ1963میں نہیں بلکہ 6جنوری 1956کودی تھی ملاحظہ فرمائیں مولانا منظور احمد چنیوٹی کی طرف سے دعوت مباہلہ کے لئے بھیجا گیا پہلا اور دوسرا خط.... اس وقت مرزا بشیر الدین بالکل تندرست تھا۔اسی بنا پر مرزا محمود کے نمائندے 1963تک خط و کتابت کرکے شرائط طے کرتے رہے اگر مذکورہ قادیانی عذر درست تھا تو مرزائی نمائندوں نے ابتدا ہی میںیہ عذر کیوں نہ پیش کیا کہ ہمارے امام صاحب شدید بیمار ہیں اور وہ جواب نہیں دے سکتے ۔

 

اعتراض نمبر5:

 مولانا چنیوٹی سے چنیوٹ کی جماعت کے امیر نے کہا کہ مجھ سے مباہلہ کرلیں مگر مولانا نے کہا کہ میں تو ایک عالم ہوں کوئی عالم ہی مجھے جواب دے۔

٭جواب:

یہ محض ایک باطل دعویٰ ہے قادیانیوں کے پاس اس دعویٰ کی کوئی دلیل ہے تو پیش کریں ۔ہاتو ا برہانکم ان کنتم صادقین۔                                                     قادیانیوں کو کھلا چیلنج

                قادیانیو!! خیانت سے بھرپورتاریخ کے حامل قادیانیو!حقائق کو غلط رنگ میں پیش کرکے عام قادیانیوں اور مسلمانوں کو بے وقوف کیوں بناتے ہو؟سابقہ تمام بحث مباحثوں کو چھوڑو ، آ و میں محمد الیاس چنیوٹی تمہیں دعوت مباہلہ دیتا ہوں ،موضوع اور شرائط مباہلہ وہی ہوں گی جو میرے والد مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمہ اﷲ نے طے کی تھیں ۔ہے کوئی مرد میدان جو اس دعوت مباہلہ کو قبول کرے........؟؟

 

اعتراض نمبر6:

 چک منگلہ کے مربی جماعت مولانا عزیز الرحمن منگلہ نے مولانا چنیوٹی کو دعوت مباہلہ دی مگر مولانا چنیوٹی نے انکارکردیا اور کہا میں تو امام جماعت سے ہی مباہلہ کروں گا۔

 

٭جواب:

یہ بھی سراسر جھوٹ اور افتراءہے ۔ اس کی وضاحت کےلئے عزیز الرحمن منگلہ کی برادری اور علاقہ کے سرکردہ لوگوں کا بیان اور ویڈیو ریکارڈنگ ہمارے پاس موجود ہے ۔ مورخہ 12مئی 2012کو میں اپنے ذمہ دارساتھیوں مولانا مشتاق احمد استاذ درجہ تخصص فی رد القادیانیہ اور آئی ٹی انچارج مولانا محمد رفیق کے ہمراہ چک منگلہ گیا ۔ معززین نے اپنے د ستخطوں کے ساتھ یہ بیان دیا ہے کہ :

(۱)          مولوی عزیزالرحمن منگلہ پہلے مسلمان تھا بعد میں قادیانی ہوا۔

(۲)          مولوی عزیز الرحمن کا مولانا سید عنایت اﷲ شاہ گجراتی سے تین دن مناظرہ ہوا تھا جس میں مولوی عزیزالرحمن نے شکست کھائی مولانا منظور احمد چنیوٹی سے اس کا کوئی مناظرہ نہیں ہوا۔

(۳)          اُس مناظرہ کے نتیجہ میں مولانا پیر منور دین قادیانیت سے توبہ تائب ہوگئے تھے جو کہ عزیزالرحمن کے استاد تھے اور دنوں مناظرہ میں شریک تھے ۔

(۴) مولوی عزیز الرحمن منگلہ نے مولانا منظور احمد چنیوٹی مرحوم کو مباہلہ کا کوئی چیلنج نہ دیا تھا اس بارے میں قادیانی اپنے اخبارات و رسائل و الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے جو بیان کرتے ہےں کہ مولانا چنیوٹی مولوی عزیز الرحمن کی دعوت مباہلہ پر دم بخود رہ گئے تھے اور وہ دعوت مباہلہ قبول نہ کرسکے، قادیانیوں کا یہ بیان غلط پروپیگنڈہ اور سفید جھوٹ ہے جس کی کوئی حقیقت نہ ہے ۔

(۵) مولوی عزیزالرحمن اُس مناظرہ کے بعد دماغی توازن کھو بیٹھا تھا اور پاگل ہوگیا تھا اسے نالیوں اور جوہڑوں میں گرتے پڑتے دیکھا گیا ۔ گاوں کے بچے اس کے پیچھے تالیاں پیٹتے تھے بعد ازاں اس نے قادیانیت کی کتابیں چکہ منگلہ کے مولانا عبدالحق کے ہاتھ فروخت کردیں جو آج بھی ان کے خاندان کے پاس موجود ہیں ۔ کتابیں بیچ کر مولوی مذکور نے اپنے جنون کا علاج شروع کیا لیکن وہ شفایاب نہ ہوسکا۔

(۶) مولوی عزیز الرحمن منگلہ پر اﷲ تعالیٰ کی ایسی ناراضگی پڑی کہ پہلے وہ خود پاگل ہوا پھر اس کی دوبیٹیاں پاگل ہوئیں جن میں سے ایک بیٹی لاولد فوت ہوگئی دوسری بیٹی عقیلہ اس وقت بھی حیات ہے جو کہ پاگل ہے اور دو بیٹیاں بھی پاگل ہیں۔دیکھئے چک منگلہ کے معززین کا تحریر کردہ بیان ............

                آئی ٹی کے اس جدید ترین دور میں ، میں قادیانیوں کو مخلصانہ دعوت دوں گا کہ اپنی منافقانہ چالوں سے باہر نکلیں اور مرزا غلام قادیانی کے باطل مذہب پر لعنت بھیج کر سچے دین اسلام میں داخل ہوکر دنیا و آخرت کو سنوار لیں۔

 

اعتراض نمبر7:

ہم نے مولانا چنیوٹی سے کہا کہ اپنے متعلق ثابت کریں کہ آپ تمام جماعت اہل سنت کے نمائندہ ہیں اگر ایسا نہیں کرسکتے تو آپ کیلئے رعایت ہے کہ صر ف اہلسنت کے چالیس علماءکے دستخط والی تحریر پیش کردیں کہ آپ ان کے نمائندہ ہیں مگر مولانا نے کوئی شرط پوری نہ کی ؟

 

٭جواب:

 قادیانیوں نے مولانا چنیوٹی سے مقامی چالیس علماءکے دستخط کا کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا۔اگر ایسا کوئی مطالبہ کیا گیا تھا تو اس کا ثبوت پیش کرنا قادیانیوں کے ذمہ ہے۔ البتہ جماعت اہل سنت کا نمائندہ ہونے کیلئے مولانا چنیوٹی نے چار دینی جماعتوں کی سندات نمائندگی (اصل) بذریعہ رجسٹرڈ ڈاک قادیانیوں کے خط و کتابت کرنے والے نمائندہ کو بھیج دی تھیں جس کی مصدقہ کاپیاں ہمارے پاس محفوظ ہیں ....دیکھئے مذکورہ سندات

 

اعتراض نمبر8:

چنیوٹ شہر کے لوگوں نے کہا کہ ہم ان کو اپنی برادری سے نکالتے ہےں ۔

 

٭جواب:

 مباہلہ کے معاملہ میں یہ ایک بہت سنگین جھوٹ ہے،حقیقت سے روگردانی ،تاریخ کو مسخ کرنے کی بھونڈی کوشش ہے ۔دنیا جانتی ہے کہ مولانا چنیوٹی کو 1963کے بعد اﷲ تعالیٰ نے سیاسی طور پر بڑی کامیابیاں عطا کیں آپ 3مرتبہ ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب آزاد حیثیت سے منتخب ہوئے اور ایک دفعہ بلدیہ چنیوٹ کے چیئر مین منتخب ہوئے ۔ اہل نظر و عقل کیلئے ایک یہی شہادت قادیانیوں کے دجل و فریب ،جھوٹ و افتراءکو ثابت کرنے کیلئے کافی ہے۔

 

اعتراض نمبر9:

 قادیانی کہتے ہےں کہ ”مباہلہ کیلئے آمنے سامنے آنا ضروری نہیں ۔“

 

٭جواب :

 حضور علیہ الصلوٰة والسلام کی سنت مباہلہ کیلئے آمنے سامنے آنے کی ہے قرآن مجید نے باب مفاعلہ کا صیغہ استعمال کیا جس کا معنی ہر ایک فریق دوسرے فریق کو میدان مباہلہ میں آنے کی دعوت دیتا ہے ۔

 

مباہلہ کا طریقہ :مرزا غلام قادیانی کہتے ہیں :

”اور ربانی فیصلہ کیلئے طریق یہ ہوگا کہ میرے مقابل پر ایک معزز پادری صاحب....میدان مقابلہ کیلئے جو تراضی طرفین سے مقرر کیا جائے طیار ہوں پر بعد اس کے ہم دونوں مع اپنی اپنی جماعتوں کے میدان مقررہ میں حاضر ہوجائیں اور خدا تعالیٰ سے دعا کے ساتھ یہ فیصلہ چاہیں کہ ہم دونوں میں سے جو شخص درحقیقت خدا تعالیٰ کی نظر میں کاذب اور مورد غضب ہے خدا تعالیٰ ایک سال میں اس کاذب پر وہ قہر نازل کرے جو اپنی غیرت کی رو سے ہمیشہ کاذب اور مکذب قوموں پر کیا کرتا ہے ۔“(انجام آتھم روحانی خزائن ج 11ص40)

 

اعتراض نمبر10:

 اس وقت چنیوٹ کے عوام میں شدید اشتعال پایاجا رہا تھا اس لئے ڈی سی جھنگ نے دفعہ 144نافذ کردی ہم امن پسند لوگ ہیں کیسے اس جگہ پر آتے !

 

٭جواب:

 قادیانیوں کے امن پسند ہونے کی حقیقت تو تھانہ (ربوہ) چناب نگر کے انچارج یا وہاں کے عوام سے پوچھیں قادیانی جماعت نے اپنے مخالفین کو قتل کرنے ، ہاتھ پاوں سے معذور کرنے کےلئے کیسے کیسے ٹارچر سیل بنارکھے ہیں ابھی ابرار صحافی جسے قادیانیوں نے قتل کیا اس کا مقدمہ زیر سماعت ہے اور ماسٹر عبدالقدوس کے قتل کا واقعہ تو انٹر نیٹ پر ابھی زیر بحث ہے جس پر روز بروز نئے انکشافات سامنے آرہے ہےں ۔ رہی بات دفعہ 144کے نفاذ کی تو اس کی وضاحت روزنامہ پاکستان ٹائمز مورخہ24فروری 1963کے اخبار میں دیکھی جاسکتی ہے کہ دفعہ 144کس کی آہ و بکاءپہ لگائی گئی ۔مولانا چنیوٹی فرماتے ہےں ” مرزائیوں کا ایک وفد مرزا عزیز احمد کی زیر قیادت ڈی سی جھنگ ملک احمد خان کے پاس بنگلہ کوٹ خدا یار(چنیوٹ) میں جا کر فریادی ہوا کہ ہم تو مباہلہ کرنا نہیں چاہتے مولوی منظور خواہ مخواہ ربوہ (چناب نگر)پر چڑھائی کرنا چاہتا ہے آپ اس کا بندو بست کریں اور اس نازک موقع پر ہماری حفاظت کریں ۔ڈی سی جھنگ نے بوساطت کنور عبدالعزیز تحصیلدار چنیوٹ مجھے جھنگ طلب کیا

میں مع رفقاء23فروری 1963کو ڈی سی جھنگ کے پاس گیا۔ ڈی سی جھنگ نے کہا کہ مرزائی لوگ مباہلہ سے انکاری ہیں لہذٰا آپ حضرات بھی مباہلہ کرنے نہ آئیں کیونکہ نقص امن کا خطرہ ہے میں نے کہا جب تک خلیفہ ربوہ پبلک میں اعلان نہ کرے اور تحریری طور پر اپنی شکست تسلیم نہ کرلیں میں اپنے اعلان کے مطابق وہاں پہنچوں گا آپ حفظ وامن کا انتظام کرلیں وہاں کوئی دنگا فساد نہ ہوگا۔ محض اﷲ کے حضور دعا کرنا ہے ۔یہ اسلام اور بانی اسلام حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت کا سوال ہے قادیانی جھوٹے پروپیگنڈا





 

Live streaming video by Ustream
 

کتب

ملٹی میڈیا

 
  • audio
  • videos
  • gallery
  • library

فیچرڈ ویڈیو

  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video