القرآن
اللہ کی یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ (اے پیغمبر آپ ان کے حق میں نرم مزاج واقع ہوئے ہیں ۔ اگر آپ (خدانخواستہ) تند مزاج اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب لوگ آپ کے پاس سے تتر بتر ہوجاتے۔ لہذا ان سے درگزر کیجئے، ان کے لیے بخشش طلب کیجئے [١٥٣] اور (دین کے) کام میں ان سے مشورہ کیا کیجئے۔ پھر جب آپ (کسی رائے کا) پختہ ارادہ کرلیں تو اللہ پر بھروسہ [١٥٤] کیجئے۔ (اور کام شروع کردیجئے) بلاشبہ اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب [١٥٥] نہیں آسکتا۔ اور اگر وہ تمہیں بے یارو [١٥٦] مدد گار چھوڑ دے تو پھر اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکے؟ لہذا مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔یہ نبی کے شایانِ شان نہیں[١٥٧] کہ وہ خیانت کرے۔ اور جو شخص خیانت کرے گا وہ قیامت کے [١٥٧۔١] دن اسی خیانت کردہ چیز سمیت حاضر ہوجائے گا۔ پھر ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔بھلا جو شخص اللہ کی رضا کے پیچھے چل رہا ہو وہ اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اللہ کے غضب میں گرفتار [١٥٨] ہو اور اس کا ٹھکانا جہنم ہو؟ اور جہنم تو بہت برُی بازگشت ہے۔اللہ کے ہاں سب لوگوں کے مختلف درجات ہیں اور جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں اللہ انہیں خوب دیکھ رہا ہے
حدیث
سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 853 حدیث مرفوع مکررات 2 متفق علیہ 0 محمد بن ابی عمر عدنی، عبداللہ بن معاذ، معمر، عاصم ابن ابی نجود، ابی وائل، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے ایک روز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوا ہم چل رہے تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کرا دے اور دوزخ سے دور کر دے۔ فرمایا تم نے بہت عظیم اور اہم بات پوچھی ہے اور جس کے لئے اللہ آسان فرما دیں یہ اس کے لئے بہت آسان بھی ہے تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرو نماز کا اہتمام کرو زکوة ادا کرو اور بیت اللہ کا حج کرو پھر فرمایا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں (کی آگ) کو ایسے بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور درمیان شب کی نماز (بہت بڑی نیکی ہے) پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ تتجافی جنوبھم عن المضاجع سے جزاء بماکانوا یعملون تک۔ پھر فرمایا سب باتوں کی اصل اور سب سے اہم اور سب سے بلند کام نہ بتاؤں؟ وہ (اللہ کے حکم کو بلند کرنے اور کفر کا زور توڑنے کیلئے) کافروں سے لڑنا ہے پھر فرمایا میں تمہیں ان سب کاموں کی بنیاد نہ بتاؤں میں نے عرض کیا ضرور بتلائیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا اس کو روک رکھو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی جو گفتگو ہم کرتے ہیں اس پر بھی کیا مواخذہ ہوگا؟ فرمایا اے معاذ لوگوں کو اوندھے منہ دوزخ میں گرانے کا باعث صرف ان کی زبان کی کھیتیاں (گفتگو) ہی تو ہوگی۔ سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 869 حدیث مرفوع مکررات 0 متفق علیہ 0 حرملہ بن یحییٰ، عبداللہ بن وہب، ابن لہیعہ، عیسیٰ بن عبدالرحمن، زید بن اسلم، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک روز مسجد نبوی کی طرف تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں فرمایا کیوں رو رہے ہو؟ میں نے ایک بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی اس کی وجہ سے رو رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے اور جو اللہ کے کسی ولی (متبع شریعت عامل بالسنة) سے دشمنی کرے اس نے اللہ کو جنگ میں مقابلہ کے لئے پکارا۔ اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں ایسے لوگوں کو جو نیک و فرماں بردار ہیں متقی و پرہیزگار ہیں اور گمنام و پوشیدہ رہتے ہیں کہ اگر غائب ہوں تو ان کی تلاش نہ کی جائے حاضر ہوں تو آؤ بھگت نہ کی جائے (ان کو بلایا نہ جائے) اور پہچانے نہ جائیں (کہ فلاں صاحب ہیں) ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں وہ ہر تاریک فتنہ سے صاف بے غبار نکل جائیں گے۔

قادیانی ۔۔ غیر مسلم کیوں ہیں؟


قادیانی ۔۔ غیر مسلم کیوں ہیں؟

قادیانی ۔۔ غیر مسلم کیوں ہیں؟


از قلم کاشف حفیظ صدیقی

رحمن وشیطان کی جنگ تو ازل سے جاری ہے، بلکہ اس دن سے جاری ہے کہ جس روز سے ابلیس ملعون نے رب کعبہ کے حکم پر انسان کو سجدہ کرنے سے ہی انکار کر دیا تھا او رحضرت انسان کو گمراہ کرنے کے عزم صمیم کا اظہار کیا۔ شیطان نے اپنے رب سے انسان کی رگوں میں خون کی طرح گردش کرنے کا دعوی کیا اور اعلان کیا کہ روز قیامت اپنی تباہی و بربادی سے قبل آدم کی زیادہ سے زیادہ اولاد کو واصل جہنم کروانا چاہتا ہے ۔ اس مقصد کے لیے اس نے انسانوں میں سے اپنے نمائندے چنے، جنہوں نے مختلف طریقوں سے دین حنیف پر چلنے والوں کو گمراہ کیا۔ا نہیں میں سے ایک طریقہ نبوت کے جھوٹے دعوے کا تھا۔
یہ دعویٰ نبوت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی آمد کے بعد بھی دنیا کے مختلف حصوں اور کوچوں میں جاری رہا۔ ان میں سے چند بدبختوں کے نام یہ ہیں: اسود، طلحہ اسدی، مسیلمہ کذاب ، سجاح بنت حارث تمیمیہ، مختار ابن ابوعبید ثقفی، حارث کذاب دمشقی ، مغیرہ بن سعید عجلی، بیان بن سمعان تمیمی، صالح بن ظریف برغواطی، بہاد نرید زوزانی نیشاپوری، اسحق اخرس مغربی، استاد میس خراسانی، یحییٰ بن فارس ساباطی، علی بن محمد خارجی ، یحییٰ بن زکریا ،علی بن فضل، یحییٰ ابو الطیب احمد بن حسین متنبی، حسین بن حمدان خصیمی یادورِ جدید کا محمدیوسف کذاب۔ یہ تمام کے تمام اہل ایمان کے ہاتھوں واصل جہنم ہوئے۔
انگریزوں کی آشیر باد سے بیسویں صدی کے اوائل میں متحدہ ہندوستان میں جہاد کی صدا کو ختم کرنے کے لیے احمدی کی شکل میں ایک نیا فتنہ سامنے آیا۔ اس فتنے نے گذشتہ سو سال میں مختلف رنگ اور مختلف شکلیں تبدیل کیں۔ ابتدا میں مرزا غلام احمد قادیانی اپنے ماننے والوں کی پہچان علیحدہ ملت کے طور پر کرانے کی کوشش کرنے لگا، جو مسلم شناخت سے الگ ہو ۔ اسی طرح کی کوشش 1947ء میں تقسیم ہند کے وقت بھی کی گئی، جس کے شدید اثرات پاکستانی مجوزہ سرحدی معاملات پر بھی پڑے ، مگر آج صورت حال یہ ہے کہ احمدیوں کی پوری کوشش او رکاوش ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنے آپ کو مسلمانوں کی اکثریت میں مدغم کرکے فلسفہ نبوت کے خلاف اپنی سازشیں جاری رکھیں ، مگر مسلمانانِ پاکستان کی عظیم جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں دستورِ پاکستان میں” مسلمان“ کی واضح تعریف کی جاچکی ہے، جو یہ ہے کہ:
”مسلمان وہ شخص ہے جو الله تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی اکملیت پر یقین رکھتا ہو اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر آخری نبی کے بطور مکمل ایمان رکھتا ہو اور ایسے شخص پر ایمان اور تعلق نہ رکھتا ہو جو نبوت کی کسی بھی شکل میں دعویٰ نبوت کرتا ہے او رنبوت کے لفظ کی کسی بھی معنوی لحاظ سے نبوت کا اظہار کرتا ہے۔“ اور” غیر مسلم وہ شخص ہے جو عیسائیت، یہودیت، سکھ ، بدھ، پارسی یا قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھتا ہو۔“
یہ تعریف 1974ء میں آئینی ترمیم کے بعد کی گئی، اس طرح اسلام کے تشخص کو مند مل کرنے کی ہر کوشش کے دروازے ، دریچے، کواڑ، کھڑکیاں اور درازیں بند کر دی گئیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ قادیانیت مذہبی، رنگ بھی رکھتا ہے اور اساسی تصور بھی، اس کو ان دونوں تناظر ہی میں دیکھنا، پرکھنا اور برتنا ہو گا۔ الزام برائے الزام سے ہٹ کر دلیل کی قوت اور ثبوت کی طاقت کے ساتھ دور جدید کے ذہنوں کے سامنے رکھنا ہو گا تاکہ ان کو گمراہی سے بچایا جاسکے، جھوٹے پروپیگنڈے کو تحقیق کے ذریعے ہی توڑا جاسکتا ہے۔
رب العالمین نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام مبعوث کیے، ان کو علم سے نوازا اور انسان کو گمراہی سے بچانے کی تدبیر کی ۔
” کہو ہم ایمان لائے الله پر اور اس تعلیم پر جو ہماری طرف اتاری گئی ہے اور اس تعلیم پر جو ابراہیم، اسماعیل، اسحق، یعقوب علیہم الصلوة والسلام اور ان کی اولاد پر اتار دی گئی تھی اور جو موسی، عیسی علیہما السلام اور دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی ، ہم ان کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے اور ہم الله کے مطیع اور فرماں برادر ہیں ، پس اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں ، جس طرح تم لائے ہو تو وہ سیدھے راستے پر ہیں ۔“ ( البقرہ :137,136)
پھر ہوا یوں کہ حضرت انسان باوجود انبیائے کرام علیہم السلام جیسی پاک ہستیوں کی محنت کے مارا گیا، جیساکہ سورة النحل میں الله پاک فرماتا ہے کہ:
” ہم نے ( اے محمد) تم سے پہلے مختلف امتوں کی طرف ہدایت بھیجی ، مگر اس کے بعد شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے خو شنما بنا دیا ، چناں چہ آج وہی ان کا سرپرست بنا ہوا ہے اور وہ دردناک سزا کے مستحق ہیں۔“
آخر کار آج سے 1400 سال پہلے خاتم النبیین، سید المرسلین، شفیع المذنبین، حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کی ذات اقدس دنیا میں تشریف لائی، جن کے بارے میں رب کائنات خود کہتا ہے کہ:
” اے نبی! ہم نے تم کو گواہ اور خو ش خبری دینے والا، ڈرانے والا اور الله کے حکم سے الله کی طرف دعوت دینے والا ایک روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے ۔” ( الاحزاب:46,45)
اور پھر اہل ایمان کو قرآن میں یہ پیغام دے دیا گیا ہے کہ:
” محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ، مگر وہ الله کے رسول اور نبیوں کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں ۔“ ( الاحزاب:40)
یعنی یہ اعلان خود رب العالمین کی طرف سے واضح اور صاف الفاظ میں ہے او را س میں کوئی ابہام نہیں۔ بخاری میں بھی نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے اپنے الفاظ اس حوالے سے اس طرح سے ملتے ہیں کہ:
” میری او رمجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیا کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے عمارت بنائی اور خوب حسین وجمیل بنائی ، مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑی ہوئی تھی، لوگ اس عمارت کے گرد گھومتے پھرتے اور اس کی خوبی پر اظہار حیرت کرتے تھے ، مگر کہتے تھے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو وہ اینٹ میں ہوں او رمیں خاتم النبیین ہوں ( یعنی میرے آنے کے بعد نبوت کی عمارت مکمل ہو چکی ہے ، اب کوئی جگہ باقی نہیں ہے ، جسے پُر کروانے کے لیے کوئی نبی آئے)۔“
اسی طرح بخاری میں ہے کہ :
” نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کی قیادت انبیاء کیا کرتے تھے، جب کوئی نبی فوت ہو جاتا تو کوئی دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا، مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا ، بلکہ خلفا ہوں گے۔“ ( بخاری ،کتا ب المناقب)
قارئین! قادیانیوں کو بنیادی طور پرجو چیز اہل ایمان سے علیحدہ اورجدا کرتی ہے ، وہ ہے قادیانیوں کی ختم نبوت کی نئی اور نرالی تفسیر ۔ گزشتہ چودہ سو سال سے تمام مسلمان بالاتفاق یہ مانتے رہے ہیں اور آج بھی یہی مانتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی مبعوث ہونے والا نہیں ۔ختم نبوت کے متعلق قرآن مجید کی کھلی ہدایت کا یہی مطلب صحابہ کرام  نے سمجھا تھا اور ہر اس شخص سے جنگ کی اور مخالفت کی جس نے حضور صلی الله علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعوی کیا ، پھر یہی مطلب بعد کے ہر دور میں تمام مسلمان سمجھتے رہے ہیں ، جس کی بنا پر مسلمانوں نے اپنے درمیان کبھی بھی ایسے شخص کو برداشت نہیں کیا، جس نے نبوت کا دعوی کیا۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے تاریخ میں پہلی بات ” خاتم النبیین“ کی یہ نرالی تفسیر کی کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ” نبیوں کی مہر “ ہیں اور اس کا مطلب ( نعوذ بالله) یہ بیان کیا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے بعد اب جو بھی نبی آئے گا، اس کی نبوت آپ صلی الله علیہ وسلم کی مہر تصدیق لگ کر مصدقہ ہو گی ، اس کے ثبوت میں قادیانی لٹریچر کی بکثرت روایات اور عبارتوں کا حوالہ دیا جاسکتا ہے، مگر ہم صرف تین پر ہی اکتفا کر سکتے ہیں :
” خاتم النبیین کے بارے میں حضرت مسیح موعود ( مرزا غلام احمد قادیانی) نے فرمایا کہ خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں کہ آپ کی مہر کے بغیر کسی کی نبوت کی تصدیق نہیں ہو سکتی ، جب مہر لگ جاتی ہے تو وہ کاغذ مستند ہو جاتا ہے ، اسی طرح آں حضرت کی مہر اور تصدیق جس نبوت پر نہ ہو وہ صحیح نہیں ہے ۔“ (ملفوظات احمدیہ، مرتبہ محمد منظو رالہی ، حصہ پنجم ، ص:290)
” ہمیں اس سے انکار نہیں کہ رسول کریم صلی الله علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں ، مگر ختم کے معنی وہ نہیں جو ” احسان“ کا سوادِ اعظم سمجھتا ہے اور جو رسول کریم صلی الله علیہ وسلم کی شان اعلیٰ وارفع کے سراسر خلاف ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے نبوت کی نعمت عظمیٰ سے پنی امت کو محروم کر دیا ، بلکہ یہ کہ آپ نبیوں کی مہر ہیں ، اب وہی نبی ہو گا جس کی آپ صلی الله علیہ وسلم تصدیق کریں گے … انہی معنوں میں ہم رسول کریم کو خاتم النبیین کہتے اور سمجھتے ہیں۔“ ( الفضل قادیانی، مورخہ22 ستمبر1919ء)
” خاتم مہر کو کہتے ہیں ، جب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم مہر ہوئے تو اگر ان کی امت میں کسی قسم کا نبی نہیں ہو گا تو وہ مہر کس طرح سے ہوئے اور یہ مہر کس پر لگے گی؟“ (الفضل قادیان،22 مئی1922ء)
آئیے! ہم یہاں ذرا تھوڑی دیر رک کر لفظ ”خاتم النبیین“ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، قرآن مجید میں سورة الاحزاب کی آیت نمبر40 کا ترجمہ کنزالایمان میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی( مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز) نے اس طرح کیا ہے کہ ” محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں، ہاں! الله کے رسول ہیں اور سب نبیوں پر پچھلے اور الله سب کچھ جانتا ہے۔“
حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی  اس آیت کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں کہ :” محمد باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے ، لیکن رسول ہے الله کا اورمہر سب نبیوں پر اور ہے الله سب چیزوں کو جاننے والا ۔“
آگے چل کر اس کے فوائد میں لکھتے ہیں کہ:
یعنی آپ کی تشریف آوری سے نبیوں کے سلسلے پر مہر لگ گئی ، اب کسی کو نبوت نہیں دی جائے گی ، یعنی جن کو ملنی تھی مل چکی ۔ اس لیے آپ کی نبوت کا دور سب نبیوں کے بعد رکھا ہے … اس طرح نبوت ورسالت کے تمام مراتب وکمالات کا سلسلہ بھی روح محمدی پر ختم ہوتا ہے … مطالعہ کے بعد ذرا تردد نہیں رہتا کہ اس عقیدے کا منکر قطعا کافر او رملت اسلامیہ سے خارج ہے۔ ( دارالتصنیف لمیٹڈ، کراچی)
آپ صلی الله علیہ وسلم رتبی او رزمانی لحاظ سے ہر حیثیت میں خاتم النبیین ہیں ، جن کو نبوت ملی ہے۔ ( شاہ فہد قرآن شریف پرنٹنگ کمپلیکس جدہ)۔
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب  اس کی تفسیر (معارف القرآن، ج7، ص:162,163) میں تحریرکرتے ہیں کہ : ” اس آیت میں یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا ذکر بصفت رسول آیا ہے … تو آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ آپ انبیا کے ختم کرنے والے اور سب سے آخری نبی ہیں ، خواہ وہ صاحب شریعت نبی ہوں یا صرف پہلے نبی کے تابع۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی کی جتنی قسمیں الله تعالیٰ کے نزدیک ہو سکتی ہیں ، وہ سب آپ پر ختم ہو گئیں ، آپ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہو گا۔“
امام ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ :” یہ آیت نص صریح ہے اس عقیدے کی کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں تو بدرجہ اولیٰ رسول بھی نہیں، کیوں کہ لفظ نبی عام اور رسول خاص ہے اور یہ وہ عقیدہ ہے جس پر احادیث متواتر شاہد ہیں، جو صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت کی روایت سے ہم تک پہنچی ہیں۔“
امام غزالی نے اپنی کتاب” الاقتصاد فی الاعتقاد“ میں آیت مذکورہ کی تفسیر اور عقیدہ ختم نبوت کے متعلق یہ الفاظ تحریر کیے ہیں : ” بے شک امت نے اس لفظ ( یعنی خاتم النبیین اور لانبی بعدی) اور قرآئن واحوال سے اجتماعی طور پر یہی سمجھا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے بعد ابد تک نہ کوئی نبی ہو گا اور نہ کوئی رسول اور یہ کہ نہ اس میں کوئی تاویل چل سکتی ہے ، نہ تخصیص۔“
مولانا مودودی تفہیم القرآن ج:4 ص:103 میں اس آیت کی تفسیر او رمعنی اس طرح کرتے ہیں کہ ” لوگو! محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ، مگر وہ الله کے رسول اور خاتم النبیین ہیں، یعنی ان کے بعد کوئی رسول تو درکنار، کوئی نبی تک آنے والا نہیں ہے کہ اگر کوئی قانون او رمعاشرے کی اصلاح ان کے زمانے میں رہ جائے تو بعد کا آنے والا نبی کسر پوری کر دے۔“
ہندوستان سے لے کر عرب تک، مراکش سے لے کر اندلس تک ، ترکی سے لے کریمن تک، تمام علماء کی رائے اس پر متفق ہے ، جن میں امام ابوحنیفہ، علامہ ابن جریر طبری، امام طحاوی ، علامہ ابن حزم اندلسی، علامہ زمخشری، قاضی عیاض، امام رازی، علامہ بیضاوی، علامہ حافظ الدین النفیس، علامہ علاؤ الدین بغدادی، علامہ سیوطی، ملاعلی قاری، شیخ اسماعیل حنفی ، اصحاب فتاویٰ عالم گیری، علامہ آلوسی رحمہم الله ودیگر شامل ہیں ۔ پہلی صدی سے تیرہویں صدی تک علما اور اکابرین، سب کی رائے ایک ہے ، ان سب کی تحریروں میں یہ بات واضح ہے کہ ” خاتم النبیین“ کا صاف مطلب ” آخری نبی“ ہے۔ حضور صلی الله علیہ وسلم کے بعد نبوت کے دروازے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند تسلیم کرنا ہر زمانے میں تمام مسلمانوں کا متفقہ مسئلہ ہے۔
ختم نبوت کے مسئلے پر امت مسلمہ بلاتفریق رنگ ونسل وفقہ ، متفق رہی ہے او راس میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسا گل دستہ ہے جس میں سنی، شیعہ، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، مقلد، غیر مقلد سب کے سب سجے ہوئے ہیں اور اپنی اپنی خوش بو دے رہے ہیں۔
اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی نے 131ھ بمطابق1986ء میں ایک رسالہ ” دشمن خدا کے ختم نبوت کا انکار کرنے پر خدائی جزا“ میں لکھا ہے کہ : الله اور اس کے رسول نے نبی ، نبوت کی مطلقاً نفی فرمائی ہے۔ شریعت جدیدہ کی کوئی قید نہیں لگائی اور صراحتاً بمعنی ” آخر“ فرمایا ہے ۔ متواتر احادیث میں اس کا بیان آیا ہے اور صحابہ کرام رضی الله عنہم اجمعین سے لے کر آج تک امت نے ان معانی پر اجماع فرمایا ہے، اسی بناء پر ائمہ مذہب نے ہر مدعی نبوت کو کافر کہا ہے۔ ( فتاوی رضویہ ،ج6، ص:59)
ادارہ معارف اسلامی نے مفتی محمد شفیع صاحب  کی ایک ضخیم کتاب بعنوان” ختم نبوت“ چھاپی ہے، جس کے صفحات کی تعداد الگ بھگ500 ہے، اس کتاب میں حضرت مفتی صاحب نے نہایت تفصیل کے ساتھ1210 احادیث اور 100 قرآنی آیات کی روشنی میں ختم نبوت کے مسئلے کی دلنشین تشریح کی ہے ۔ ص:69 پر مفتی صاحب رقم طراز ہیں کہ : ” اس جگہ لفظ”خاتم النبیین“ کے اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ امم دنیا کو اس پر متنبہ کرنا منظور ہے کہ : ” اے ہوا وہوس کے بندو! یہ ہمارا آخری رسول ہے، جو آخری پیغام لے کر تمہاری طرف آیا ہے ، اب بھی ہوش میں آجاؤ اور اس کے اتباع سے دین ودنیا او رمعاش کو درست کر لو، اس کے بعد پھر کوئی جدید آسمانی پیغام زمین والوں کی طرف نہ بھیجا جائے گا اور نہ کوئی جدید پیغمبر مبعوث ہو گا۔“
مولانا مودودی سیرت سرور دو عالم صلی الله علیہ و سلم میں لکھتے ہیں کہ:”ایک پیغمبر کے آنے کے بعدد وسرا پیغمبر آنے کی تین ہی وجوہات ہو سکتی ہیں :
یا تو پہلے پیغمبر کی تعلیمات مٹ چکی ہوں اور اس کو پھرپیش کرنے کی ضرورت ہو ۔
پہلے پیغمبر کی تعلیمات میں ترمیم یا اضافے کی ضرورت ہو ۔
پہلے پیغمبر کی تعلیمات صرف ایک قوم تک محدود ہوں اور دوسری اقوام کے لیے ایک الگ پیغمبر کی ضرورت ہو۔
ایک چوتھی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ایک پیغمبر کی موجود گی میں اس کی مدد کے لیے دوسرا پیغمبر بھیجا جائے، ان میں سے کوئی وجہ اب باقی نہیں رہی۔“ (ص:173)
مفتی محمد شفیع صاحب  قرآن کی 99 آیات ” خاتم النبیین“ کی مد میں پیش کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ان میں کسی قسم کے مجاز یا مبالغہ کا دخل نہیں ، ص:236 پر رقم طراز ہیں کہ : الغرض چوں کہ قرآن مجید او راحادیث نبویہ اوراجماع صحابہ اور اقوال سلف نے اس کا قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ ” خاتم النبیین“ اپنے حقیقی اور ظاہری معنی پر محمول ہے ، نہ اس میں کوئی مجاز ہے نہ مبالغہ اور نا تاویل وتخصیص تو اب کسی کو حق نہیں کہ اس لفظ کی مخصوص ومنقول تفسیر کو بدلے۔
قارئین! قادیان سے طلوع ہونے والے اس گہن زدہ ستارے نے وہ عجیب اندھیرا پھیلانے کی کوشش کی کہ جس کی کثافت کو سب نے محسوس کیا ، مگر آفتاب ہدایت کی منور روشنی نے شب سیاہ کو تار تار کر دیا ، یہاں ضروری ہے کہ ” خاتم النبیین“ کے لغوی معنی سمجھے جائیں۔ مولانامودودی نے ” سرور دو عالم“ میں اپنے تحقیقی مقالے ” عقیدہ ختم نبوت پر جامع تحقیقی بحث“ میں خاتم النبیین کے لغوی معنی بڑے دلچسپ انداز میں کیے ہیں ، لکھتے ہیں کہ عربی لغت اور محاور ے کی رو سے ” ختم“ کے معنی مہر لگانے ، بند کرنے، آخر تک پہنچ جانے او رکسی کام کو پورا کرکے فارغ ہو جانے کے ہیں ۔
ختم العمل کے معنی ہیں، کام سے فارغ ہو گیا۔ ختم الاناء کے معنی ہیں برتن کامنہ بند کر دیا اور اس پر مہر لگا دی، تاکہ نہ کوئی چیز اس میں سے نکلے اور نہ کچھ اس میں داخل ہو۔
ختم الکتاب کے معنی ہیں خط بند کرکے اس پر مہر لگا دی، تاکہ خط محفوظ ہو جائے۔
ختم علی القلب، دل پر مہر لگا دی کہ نہ کوئی بات اس کی سمجھ میں آئے، نہ پہلے سے جمی ہوئی کوئی بات اس میں سے نکل جائے۔
ختامہ کل مشروب، وہ مزاجو کسی چیز کو پینے کے بعد آخر میں محسوس ہوتا ہے ۔
ختم الشیٴ: بلغ اخرہ، کسی چیزکو ختم کرنے کا مطلب ہے ، اس کے آخر تک پہنچ جانا۔
خاتماً القومہ مراد ہے قبیلے کا آخری آدمی۔
مناظر ختم نبوت حضرت مولانا الله وسایا صاحب اپنی کتاب ”آئینہ قادیانیت“ کے ص:36 پر ایک مضمون خاتم النبیین کی قرآنی تفسیر میں رقم طراز ہیں کہ: ہم دیکھتے ہیں کہ لفظ”ختم“ کے مادہ کا قرآن مجید میں سات مقام پر استعمال ہوا ہے:
ختم الله علی قلوبھم ( البقرہ:7) ” مہر کر دی الله نے ان کے دلوں پر۔“ ختم علی قلوبکم( الانعام:46) ” مہر کر دی تمہارے دلوں پر۔“ ختم علی سمعہ وقلبہ (الجاثیہ:23) ” مہر کر دی ان کے کان پر اور دل پر۔“ الیوم نختم علی افواھم․ (یسٰین:65)” آج مہر لگا دیں گے ان کے منھ پر۔“ فان یشاء الله یختم علی قلبک․(الشوری:24) سواگر الله چاہے مہر کر دے تیرے دل پر۔“ رحیق مختوم (المطففین:25) ”مہر لگی ہوئی شراب۔“ ختامہ مسک (المطففین:26) ” جس کی مہر جمتی ہے مسک پر۔“
ان تمام مقامات پر قدر مشترک ہے کہ کسی چیز کو ایسے طور پر بند کرنا اس کی ایسی بندش کرنا کہ باہر سے کوئی چیز اس میں داخل نہ ہو سکے اور اندر سے کوئی چیز اس سے باہر نہ نکالی جاسکے ، وہاں پر ”ختم“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب اپنی کتاب ” ختم نبوت کامل“ کے ص:238 پر رقم طراز ہیں کہ : احادیث کے موجودہ ذخیرے کو دیکھ کر بلاتامل یہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ ختم نبوت کی احادیث متواتر ہیں۔ خبر متواتر وہ خبر ہے، جس کے نقل کرنے والوں کی تعداد اس کثرت سے پائی جائے کہ ان کی کثرت وحیثیت کو دیکھ کر عقل کو یہ گنجائش نہ ہو کہ ان سب کا مبعوث پر متفق ہو جانا تسلیم کر لے۔
قرآن وسنت کے بعد تیسرے درجے میں اہم ترین حیثیت صحابہ کرام کے اجماع کی ہے ۔ یہ بات روایات سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے وصال کے بعد جن لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا او رجن لوگوں نے ان کی نبوت تسلیم کی ، ان سب کے خلاف صحابہ کرام نے بالاتفاق جنگ کی تھی، ان داعیان نبوت میں مسلیمہ کذاب قابل ذکر ہے۔
مولانا مودودی لکھتے ہیں: ” طبری نے یہ روایت بھی بیان کی ہے کہ مسلیمہ کے ہاں جواذان دی جاتی تھی:” اس میں ”اشہدان محمد رسول“ کے الفاظ شامل تھے“ کیوں کہ اس کا دعوی تھا کہ وہ نبی کریم اے ساتھ نبوت کے کام میں شریک کیا گیا ہے ، اس صریح اقرار رسالت کے باوجود اسے کافر اور خارج از ملت قرار دیا اور اس سے جنگ کی گئی۔“






 

Live streaming video by Ustream
 

کتب

ملٹی میڈیا

 
  • audio
  • videos
  • gallery
  • library

فیچرڈ ویڈیو

  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video