القرآن
اللہ کی یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ (اے پیغمبر آپ ان کے حق میں نرم مزاج واقع ہوئے ہیں ۔ اگر آپ (خدانخواستہ) تند مزاج اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب لوگ آپ کے پاس سے تتر بتر ہوجاتے۔ لہذا ان سے درگزر کیجئے، ان کے لیے بخشش طلب کیجئے [١٥٣] اور (دین کے) کام میں ان سے مشورہ کیا کیجئے۔ پھر جب آپ (کسی رائے کا) پختہ ارادہ کرلیں تو اللہ پر بھروسہ [١٥٤] کیجئے۔ (اور کام شروع کردیجئے) بلاشبہ اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب [١٥٥] نہیں آسکتا۔ اور اگر وہ تمہیں بے یارو [١٥٦] مدد گار چھوڑ دے تو پھر اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکے؟ لہذا مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔یہ نبی کے شایانِ شان نہیں[١٥٧] کہ وہ خیانت کرے۔ اور جو شخص خیانت کرے گا وہ قیامت کے [١٥٧۔١] دن اسی خیانت کردہ چیز سمیت حاضر ہوجائے گا۔ پھر ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔بھلا جو شخص اللہ کی رضا کے پیچھے چل رہا ہو وہ اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اللہ کے غضب میں گرفتار [١٥٨] ہو اور اس کا ٹھکانا جہنم ہو؟ اور جہنم تو بہت برُی بازگشت ہے۔اللہ کے ہاں سب لوگوں کے مختلف درجات ہیں اور جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں اللہ انہیں خوب دیکھ رہا ہے
حدیث
سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 853 حدیث مرفوع مکررات 2 متفق علیہ 0 محمد بن ابی عمر عدنی، عبداللہ بن معاذ، معمر، عاصم ابن ابی نجود، ابی وائل، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے ایک روز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوا ہم چل رہے تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کرا دے اور دوزخ سے دور کر دے۔ فرمایا تم نے بہت عظیم اور اہم بات پوچھی ہے اور جس کے لئے اللہ آسان فرما دیں یہ اس کے لئے بہت آسان بھی ہے تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرو نماز کا اہتمام کرو زکوة ادا کرو اور بیت اللہ کا حج کرو پھر فرمایا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں (کی آگ) کو ایسے بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور درمیان شب کی نماز (بہت بڑی نیکی ہے) پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ تتجافی جنوبھم عن المضاجع سے جزاء بماکانوا یعملون تک۔ پھر فرمایا سب باتوں کی اصل اور سب سے اہم اور سب سے بلند کام نہ بتاؤں؟ وہ (اللہ کے حکم کو بلند کرنے اور کفر کا زور توڑنے کیلئے) کافروں سے لڑنا ہے پھر فرمایا میں تمہیں ان سب کاموں کی بنیاد نہ بتاؤں میں نے عرض کیا ضرور بتلائیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا اس کو روک رکھو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی جو گفتگو ہم کرتے ہیں اس پر بھی کیا مواخذہ ہوگا؟ فرمایا اے معاذ لوگوں کو اوندھے منہ دوزخ میں گرانے کا باعث صرف ان کی زبان کی کھیتیاں (گفتگو) ہی تو ہوگی۔ سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 869 حدیث مرفوع مکررات 0 متفق علیہ 0 حرملہ بن یحییٰ، عبداللہ بن وہب، ابن لہیعہ، عیسیٰ بن عبدالرحمن، زید بن اسلم، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک روز مسجد نبوی کی طرف تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں فرمایا کیوں رو رہے ہو؟ میں نے ایک بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی اس کی وجہ سے رو رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے اور جو اللہ کے کسی ولی (متبع شریعت عامل بالسنة) سے دشمنی کرے اس نے اللہ کو جنگ میں مقابلہ کے لئے پکارا۔ اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں ایسے لوگوں کو جو نیک و فرماں بردار ہیں متقی و پرہیزگار ہیں اور گمنام و پوشیدہ رہتے ہیں کہ اگر غائب ہوں تو ان کی تلاش نہ کی جائے حاضر ہوں تو آؤ بھگت نہ کی جائے (ان کو بلایا نہ جائے) اور پہچانے نہ جائیں (کہ فلاں صاحب ہیں) ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں وہ ہر تاریک فتنہ سے صاف بے غبار نکل جائیں گے۔

اوصافِ نبوت اور مرزائیت کی تردید حصہ دوم


اوصافِ نبوت اور مرزائیت کی تردید حصہ دوم

 حصہ دوم

 

اس بناسپتی نبی نے اپنی دیدہ دلیری کی حد کر دی حضرت امام حسین علیہ اسلام کے بارے میں شعر کہتا ہے۔
   

    کربلا است سیرہرآنم
    صد حسین ہست در گریبانم۔۔۔۔۔۔۔۔( نزول المسیح صفحہ99)
  

  (4)ہر آنے والا نبی یا خود صاحبِ شریعت ہو گا یا کسی نبی کی شریعت کو زندہ رکھنے والا ہو گا۔اگر اس کا دعوی صاحبِ شریعت ہونے کا بھی نہ ہو اور کسی نبی کی شریعت پر اس کا اعتبار و یقین بھی نہ ہو تو اہلِ بصیرت اسے کیا سمجھیں؟
   

مرزا صاحب کوئی نئی کتاب و شریعت تو پیش کرتے نہیں اور نہ ہی ان کا ایسا کہیں دعوی ہے۔ رہا شریعتِ محمدی پر اپنی جماعت کو چلانا تو یہ بھی بلکل خلاف واقع ہے۔بطور دلائل چند اقتباسات پیش خدمت ہیں۔قرآن سنو۔
   

“اے نبی جہاد کرو کافروں اور منافقوں سے اور سختی کر اوپر ان کے اور ان کے رہنے کا مقام دوزخ ہےاور جگہ ان کی بری ہے(پارہ28رکوع20)“
   

تو اسلام میں جہاد کرنا فرض واجب ہے اور ہر مسلمان کا اعتقاد و ایمان ہمیشہ سے جہاد پر چلا آ رہا ہے۔مگر مرزا صاحب کا اعلان و بیان قرآن کے صریحا خلاف ہے۔فرماتے ہیں کہ لوگ اپنے وقت کو پہچان لیں یعنی سمجھ لیں کہ آسمان کے دروازوں کے کھلنے کا وقت آ گیا اب زمینی جہاد بند کیے گئے اور لڑائیوں کا خاتمہ ہو گیا جیسا کہ حدیثوں میں پہلے لکھا گیا تھا کہ جب مسیح آئے گا تو لڑنا حرام قرار دیا جائے گا۔ سو آج دین کے لئے لڑنا حرام کیا گیا۔اب اس کے بعد جو دین کے لئے تلوار اٹھاتا ہے اور غازی نام رکھ کر کافروں کو قتل کرتا ہے وہ خدا اور اس کے رسول کا نافرمان ہے(قادیانیت صفحہ134)۔اور فرماتے ہیں کہ بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں۔سو یاد رہے یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے۔اس سے جہاد کیسا(شہادت القرآن صفحہ86،انگریزی نبی صفحہ16 اور ضمیمہ تحفہ گولڑیہ کے صفحہ 29 پر نظم تحریر کرتے ہیں۔
 

    اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دیں کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
    اب آ گیا مسیح جو دیں کا امام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دیں کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
    اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب جنگ اور جہاد کا فتوی فضول ہے
    دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد۔۔۔۔۔۔۔۔۔منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
  

  مرزا بشیر الدین محمود 21 اگست 1917 کو ایک بیان فرماتے ہیں ہمارا مسلمانوں سے کسی قسم کا تعلق نہیں۔مسلمانوں کا اسلام اور ہمارا اسلام اور ان کا خدا اور ہمارا خدا اور ہمارا حج اور ان کا حج اور غرض اسی طرح ہمارا اختلاف ہر بات میں ہے۔پانچ سوال صفحہ 37 اور اخبار الفضل 15 دسمبر 1921 میں ہے۔حضرت مرزا صاحب نے اپنے بیٹے فضل احمد مرحوم کا جنازہ اس لئے نہیں پڑھا کہ وہ غیر احمدی تھے(قادیانیت صفحہ102)۔اسی لئے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے جنازے میں موجود ہونے کے باوجود چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے شرکت نہیں کی اور بشیر الدین محمود صاحب نے فرمایا کہ غیر احمدی بچے کا جنازہ بھی نہیں پڑھا جا سکتا(قادیانیت صفحہ 102)۔کمال یہ ہے کہ جو شریعت محمدی کو زندہ کرنے آئے تھے وہ خود بھی حجِ بیت اللہ نہ کر سکے۔مسلمانو! ذرا غور تو کرو کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہے اگر صاحبِ حیثیت حج نہ کرے تو اس کے اسلام میں اشکال ہے اور ایسا آدمی قیامت کو اندھا اور دینِ یہود و نصاری پر محشور ہو گا(توضیح المسائل صفحہ345)۔اب خدا بہتر جانتا ہے کہ مرزا صاحب کس کے ساتھ محشور ہوں گے۔
   

مرزا صاحب تو کود فرماتے ہیں کہ میں ابتدائی عمر سے اس وقت جو تقریبا ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں۔اپنی زبان و قلم سے اہم کام میں مشغول ہوں کہ مسلمانوں کے دل کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں جو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں(تبلیغِ رسالت جلد 7صفحہ10،انگریزی نبی صفحہ11)۔(اللہ ہر آدمی کا حشر اس کے محسن کے ساتھ کرے۔آمین)
  

  (5) ہر نبی معجزہ لے کر آیا۔جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے۔“ہم نے رسولوں کو معجزات کے ساتھ بھیجا اور کتاب و میزان عطاکی(پارہ27رکوع19)“ یعنی خدا نے ہر نبی کو معجزے عطا کئے۔خلیل علیہ اسلام،کلیم علیہ اسلام،حضرت عیسی علیہ اسلام اور حضور پر نور کے معجزات غرضیکہ انبیاء کرام علیہ اسلام کے معجزات سے قرآن بھرا پڑا ہے۔
    اب مرزا صاحب جو خود یہ کہتے ہیں۔
   

    میں کبھی آدم کبھی موسی کبھی یعقوب ہوں
    نیز ابراہیم ہو نسلیں ہیں میری بے شمار
   

ان کے معجزات تو بے شمار ہونے چاہیے۔میں ان کے دو معجزات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جو حقیقت کی تہہ تک پہنچنے کے لئے کافی ہیں۔
  

  (1) مرزا صاحب نے 15 اپریل 1907 کو ایک اشتہار مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے نام شائع کیا۔ فرمایا کہ مولوی ثناء اللہ امرتسری ایک سال کے اندر شدید بیماری میں مبتلا ہو کر مر جائے گا اور ساتھ میں اپنی حقیقت و کیفیت کو اجاگر کرنے کے لئے شائع فرما دیا کہ اگر میں کاذب ہوں تو میں مر جاؤں۔
   

یہ ایک اٹل فیصلہ تھا جس کو خود مرزا صاحب نے تجویز فرمایا اور دنیا کے سامنے بذریعہ اشتہار پہنچا دیا۔مگر نتیجہ مرزا صاحب کے بر خلاف نکلا کہ مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب نے تو15مارچ1948کو انتقال کیا۔اور مرزا صاحب خود 26 مئی 1908 بروز سوموار لاہور میں انتقال فرما گئے(قادیانیت صفحہ2۔
  

  اس سلسلہ میں مرزا صاحب کے سُسر میر ناصر نواب کا بیان ہے کہ حضرت صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا تھا۔جب میں حضرت صاحب کے پاس آیا تو آپ نے مجھے خطاب کر کے فرمایا کہ میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔اس کے بعد آپ نے کوئی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی یہاں تک کے دوسرے دن 10 بجے کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا(حیات ناصریہ مرتبہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی قادیایت صفحہ 20)۔اس مقام پر سوائے اس کے میں کیا عرض کر سکتا ہوں کہ
   

    چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی
    وگرنہ ہم زمانہ بھر کو سمجھانے کہاں جاتے
  

  (2)اب دوسرا معجزہ بھی سن لو۔وہ یہ ہے کہ آپ کا عقد محمدی بیگم بنت احمد بیگ کے ساتھ خالق اکبر نے عرش پر بھی رچایا تھا۔جا کا اعلان مرزا صاحب نے اخباروں میں اشتہاروں میں بازاروں میں بیانات دھواں دھاروں میں اپنے کذب و صداقت کے معیاروں میں اسے قرار دیا تھا وہ پورا نہ ہو سکا اور 8 اپریل 1892کو اس محمدی بیگم کا عقد مرزا سلطان محمد سے ہو گیا اور حق و باطل کا فیصلہ تمام ہندوؤں مسلمانوں نے سن لیا۔مگر مرزا صاحب نے ایک اور دھمکی ارشاد فرمائی کہ مرزا سلطان محمد جس نے محمدی بیگم سے عقد کیا ہے۔اڑھائی سال کے اندر اندر مر جائے گا مگر اس سلسلہ میں بھی کامیابی نصیب نہ ہوسکی(مجدد اعظم صفحہ91،قادیانیت صفحہ151و163)۔

اس واقعہ کا تفصیل سے ذکر کرنا اس مقام پر نہایت دشوار ہے کیونکہ مرزا صاحب نے ہر طرح کی کوشش کی۔خدا کا حکم سنا کر،ڈرا کر، لالچ دے کر اور اپنے لڑکے فضل احمد سے اس کی بیوی کو طلاق دلوا کر غرضیکہ ہر طرح کی کوشش کی مگر بار آور نہ ہو سکی۔آپ نے مرزا احمد بیگ کے نام خط میں یہ بھی لکھا کہ آپ کو شاید معلوم نہیں کہ یہ پیشن گوئی اس عاجز کی ہزارہا لوگوں میں مشہور ہوچکی ہے اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زیادہ آدمی ہو گا جو اس پیشن گوئی پر اطلاع رکھتا ہے(قادیانیت صفحہ 161)۔مرزا علی شیر بیگ کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں۔اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا۔کیا میں چوہڑا یا چمار تھا جو مجھ کو لڑکی دینا عار یا ننگ تھی(قادیانیت صفحہ160)۔

مرزا احمد بیگ کے ایک خط میں لکھتے ہیں کہ اگر آپ نے میرا قول اور بیان مان لیا تو مجھ پر مہربانی اور احسان اور میرے ساتھ نیکی ہو گی۔میں آپ کا شکرگزار ہوں گا اور آپ کی درازی عمر کے لئے ارحم الراحمین کے جناب دعا کروں گا اور آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی لڑکی کو اپنی زمین اور مملوکات کا ایک تہائی حصہ دوں گا۔میں سچ کہتا ہوں کہ ان میں سے جو کچھ مانگیں گے میں آپ کو دوں گا(قادیانیت صفحہ 159)۔اس طرح کے کافی خطوط وغیرہ میری نگاہ میں ہیں۔
   

(6)ہر نبی اپنی قوم کی زبان میں وحی بیان کرتا ہے جیسا کہ قرآن الحکیم کا فرمان ہے۔“اور نہیں بھیجا ہم نے کوئی رسول مگر ساتھ زبان اس کی قوم کے تاکہ ان میں بیان کرے(پارہ13رکوع13)“۔معلوم ہوا ہر نبی اپنی قوم کی زبان میں گفتگو کرتا تھا۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساری کائنات کے لئے مبعوث ہوئے مگر گفتگو اور عبادت ان کی بھی عربی زبان میں ہوا کرتی تھی۔یہی وجہ ہے کہ عربی نہ جاننے والے بھی نماز۔اذان۔اقامت۔کلمہ عربی زبان میں ادا کرتے ہیں۔
  

  مگر مرزا صاحب پر وحی عربی،فارسی،سنسکرت،انگریزی وغیرہ میں ہوئی۔باقی انبیاء کے پاس تو جبرائیل آیا کرتے تھے مگر مرزا صاحب کے فرشتے ٹیچی ٹیچی خیراتی،مٹھن لال اور کاتب وحی سندر لال تھے(پانچ سوال صفحہ36)۔اس کے علاوہ درشنی، شیر علی بھی مرزا صاحب کے فرشتے تھے(بناسپتی نبی صفحہ6)۔

مرزا صاحب پر نازل ہونے والی وحی ان کی کتاب (مجموعہ الہاماتِ مرزا) میں پڑھ سکتے ہیں۔
  

  میں احمدی حضرات سے عرض کروں گا کہ ٹیچی ٹیچی اور مٹھن لال ،درشنی اور خیراتی وغیرہ سے کس طرح کی وحی کی امید کی جا سکتی ہے؟ یہی وجہ ہے کہ مرزا صاحب کو ان فرشتوں نے محمدی بیگم اور مولانا ثناء اللہ امرتسری وغیرہ ایسے معجزوں میں بدنام کروا دیا۔ورنہ مرزا صاحب کی انکساری تو قابلِ داد ہے۔مرزا صاحب کا شعر سنو۔
   

    کرمِ خاکی ہوں پیارے نہ آدم زاد ہوں
    ہوں بشر کی جائے نفرت اور انساں کی عار ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(دُرِ ثمین اردو)
   

جناب مرزا نے یہ بلکل سچ فرمایا ہے۔
   

(7)قرآن مجید کا اعلان و بیان ہے۔“سوا اس کے نہیں کہ مسلمان بھائی بھائی ہیں(پارہ26رکوع13)“۔خدا و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو مسلمانوں کو آپس میں بھائی بھائی بیان کر رہے ہیں۔مگر مرزا صاحب فرماتے ہیں کل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا۔مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ547)۔آگے فرماتے ہیں کہ جو شخص میرا مخالف ہے وہ عیسائی۔یہودی۔مشرک اور جہنمی ہے(نزول المسیح صفحہ4،تذکرہ صفحہ227)۔پھر فرماتے ہیں جو شخص ہماری فتح کا قائل نہیں ہو گا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے۔حرام زادے کی نشانی یہی ہے(انوار الاسلام صفحہ30)۔پھر فرماتے ہیں بلاشک ہمارے دشمن بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتوں سے بڑھ گئیں(نجم الہدی صفحہ10،پانچ سوال کا جواب صفحہ39و40)۔
  

  اب مرزا بشیر الدین محمود کی بھی سنو کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں(آئینہ صداقت صفحہ35،قادیانیت صفحہ99)۔مرزا سلطان احمد اور اس کی والدہ یعنی مرزا صاحب کے بیٹے اور بیوی نے مرزا صاحب کو نہیں مانا۔مرزا صاحب نے بیٹے کو محروم الارث اور بیوی کو طلاق دے دی(قادیانیت صفحہ 162،تبلیغ رسالت جلد 2 صفحہ9، مجدد اعظم صفحہ 194)۔یہ طلاق مئی 1891 کو ہوئی تھی۔دیکھنا یہ ہے کہ مرزا صاحب کی بیوی اور اور لڑکا حلال زادے ہیں۔یا بقول مرزا صاحب کچھ اور ہیں۔بشیر الدین محمود اپنے آپ کو اور اپنی جماعت کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ ان کا بیان واضح اعلان اخبار الفضل 15 جون 1946 میں تحریر فرماتے ہیں کہ مرزا محمد ابو سعید سپرنٹنڈنٹ پولیس کو ایک سکھ نے قتل کر دیا تھا۔اس پر گلفشانی یہ کی کہ قاتل نے اس تحریک کا اثر لیا جو سکھوں اور مسلمانوں کے خلاف پیدا کی جا رہی تھی۔اس نے سمجھا کہ جس پر حملہ کرنے جا رہا ہوں وہ ابو سعید ہے یہ نہ سمجھا کہ احمدی ہے۔اس نے مسلمان سمجھ کر قتل کیا اگر سکھ کو معلوم ہوتا کہ احمدی ہے مسلمان نہیں تو پھر قتل نہ کرتا(پانچ سوال کا جواب صفحہ36)۔ اس سے بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ مرزائی مسلمانوں کو کافر اور اپنے آپ کو مسلمان نہیں بلکہ کافر کہلاتے ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ انہیں اقلیتی فرقہ قرار نہ دیا جائے۔
   

حکومت پاکستان کے ایک جج کے فیصلہ کی رو سے مرزائیوں کو سمجھئے وہ کہ ہے کہ مسمی کرم الہی مرزائی نے اپنی لڑکی امتہ الکریم کا عقد لیفٹیننٹ نذیر الدین سے بعوض مبلغ دو ہزار کر دیا۔کچھ دنوں بعد اختلافِ عقائد کی وجہ سے زوجین کے تعلقات خراب ہو گئے۔نذیر الدین نے مرزائی لڑکی سے علیحدگی اختیار کر لی۔لڑکی والوں نے حق مہر کے لئے عدالت کی طرف رجوع کیا۔یہ مقدمہ ایک مدت تک چلتا رہا۔بالآخر محمد اکبر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج راولپنڈی نے فیصلہ دیا کہ مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں لہذا نذیر الدین حق مہر کی ادائیگی کا پابند نہیں(پانچ سوال کا جواب صفحہ2)۔حکومت کے اس فیصلے کو ہم تمام مسلمان صحیح اور واجب العمل تسلیم کرتے ہیں کہ واقعی مرزائی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
   

اسی طرح حکیم الامت جناب علامہ اقبال نے بھی حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ میری رائے میں حکومت کے لئے بہترین طریقہ کار یہ ہو گا کہ وہ قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کر لے۔یہ قادیانیوں کی پالیسی کے عین مطابق ہو گا اور مسلمان ان سے ویسی رواداری سے کام لے گا جیسے وہ باقی مذاہب کے معاملہ میں اختیار کرتا ہے(حرفِ اقبال صفحہ129،مرزائیت صفحہ 13)۔
   

آخر میں احمدیوں سے عرض ہے کہ تم خود کہتے ہو کہ ہمارے نبی کی نبوت کے لئے قرآن شاہد ہے تو میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کی چند آیات پیش کرتا ہوں۔مرزائی اس طرح اپنے نبی کی شان میں آیا دکھلائیں۔
  

    “محمد اللہ کا رسول ہے(پارہ26)“
   

“نہیں محمد مگر رسول ہے(پارہ4 رکوع 6)“
   

“نہیں ہے محمد تم مردوں میں سے کسی کا باپ ولیکن اللہ کا رسول ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا(پارہ22رکوع2)“
   

“وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کئے اچھے اور ایمان لائے اس پر جو نازل ہوا اوپر محمد کے اور وہ حق ہے رب کی طرف سے(پارہ26رکوع5)“
  

  مرزائیو! قرآن کی تو ایک سورہ کا نام بھی محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ہے۔اب مرزائی ایسی آئتیں پیش کریں جن سے مرزا صاحب نبی ثابت ہو جائے۔میں کہتا ہوں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو بہت بلند ہستی ہیں ان کے غلاموں کا مقابلہ کر کے کھلا دے۔مرزا تو ڈر کے مارے حج کو بھی نہیں جا سکا۔

    میں یہاں پر اپنے مضمون کا اختتام کرتا ہوں۔اگر کبھی مزید ضرورت پڑی تو انشاء اللہ احمدیوں کے مزید فتنوں سے بھی آگاہ کروں گا۔اللہ تعالی غلامانِ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمیشہ سلامت و آباد رکھے۔آمین ثم آمین

 

 






 

Live streaming video by Ustream
 

کتب

ملٹی میڈیا

 
  • audio
  • videos
  • gallery
  • library

فیچرڈ ویڈیو

  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video