القرآن
اللہ کی یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ (اے پیغمبر آپ ان کے حق میں نرم مزاج واقع ہوئے ہیں ۔ اگر آپ (خدانخواستہ) تند مزاج اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب لوگ آپ کے پاس سے تتر بتر ہوجاتے۔ لہذا ان سے درگزر کیجئے، ان کے لیے بخشش طلب کیجئے [١٥٣] اور (دین کے) کام میں ان سے مشورہ کیا کیجئے۔ پھر جب آپ (کسی رائے کا) پختہ ارادہ کرلیں تو اللہ پر بھروسہ [١٥٤] کیجئے۔ (اور کام شروع کردیجئے) بلاشبہ اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب [١٥٥] نہیں آسکتا۔ اور اگر وہ تمہیں بے یارو [١٥٦] مدد گار چھوڑ دے تو پھر اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکے؟ لہذا مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔یہ نبی کے شایانِ شان نہیں[١٥٧] کہ وہ خیانت کرے۔ اور جو شخص خیانت کرے گا وہ قیامت کے [١٥٧۔١] دن اسی خیانت کردہ چیز سمیت حاضر ہوجائے گا۔ پھر ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔بھلا جو شخص اللہ کی رضا کے پیچھے چل رہا ہو وہ اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اللہ کے غضب میں گرفتار [١٥٨] ہو اور اس کا ٹھکانا جہنم ہو؟ اور جہنم تو بہت برُی بازگشت ہے۔اللہ کے ہاں سب لوگوں کے مختلف درجات ہیں اور جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں اللہ انہیں خوب دیکھ رہا ہے
حدیث
سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 853 حدیث مرفوع مکررات 2 متفق علیہ 0 محمد بن ابی عمر عدنی، عبداللہ بن معاذ، معمر، عاصم ابن ابی نجود، ابی وائل، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے ایک روز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوا ہم چل رہے تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کرا دے اور دوزخ سے دور کر دے۔ فرمایا تم نے بہت عظیم اور اہم بات پوچھی ہے اور جس کے لئے اللہ آسان فرما دیں یہ اس کے لئے بہت آسان بھی ہے تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرو نماز کا اہتمام کرو زکوة ادا کرو اور بیت اللہ کا حج کرو پھر فرمایا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں (کی آگ) کو ایسے بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور درمیان شب کی نماز (بہت بڑی نیکی ہے) پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ تتجافی جنوبھم عن المضاجع سے جزاء بماکانوا یعملون تک۔ پھر فرمایا سب باتوں کی اصل اور سب سے اہم اور سب سے بلند کام نہ بتاؤں؟ وہ (اللہ کے حکم کو بلند کرنے اور کفر کا زور توڑنے کیلئے) کافروں سے لڑنا ہے پھر فرمایا میں تمہیں ان سب کاموں کی بنیاد نہ بتاؤں میں نے عرض کیا ضرور بتلائیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا اس کو روک رکھو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی جو گفتگو ہم کرتے ہیں اس پر بھی کیا مواخذہ ہوگا؟ فرمایا اے معاذ لوگوں کو اوندھے منہ دوزخ میں گرانے کا باعث صرف ان کی زبان کی کھیتیاں (گفتگو) ہی تو ہوگی۔ سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 869 حدیث مرفوع مکررات 0 متفق علیہ 0 حرملہ بن یحییٰ، عبداللہ بن وہب، ابن لہیعہ، عیسیٰ بن عبدالرحمن، زید بن اسلم، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک روز مسجد نبوی کی طرف تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں فرمایا کیوں رو رہے ہو؟ میں نے ایک بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی اس کی وجہ سے رو رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے اور جو اللہ کے کسی ولی (متبع شریعت عامل بالسنة) سے دشمنی کرے اس نے اللہ کو جنگ میں مقابلہ کے لئے پکارا۔ اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں ایسے لوگوں کو جو نیک و فرماں بردار ہیں متقی و پرہیزگار ہیں اور گمنام و پوشیدہ رہتے ہیں کہ اگر غائب ہوں تو ان کی تلاش نہ کی جائے حاضر ہوں تو آؤ بھگت نہ کی جائے (ان کو بلایا نہ جائے) اور پہچانے نہ جائیں (کہ فلاں صاحب ہیں) ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں وہ ہر تاریک فتنہ سے صاف بے غبار نکل جائیں گے۔

اوصافِ نبوت اور مرزائیت کی تردید


اوصافِ نبوت اور مرزائیت کی تردید

اوصافِ نبوت اور مرزائیت کی تردید

    اور ہرگز نہ پائے گا تو قاعدہ الہی میں تبدیلی(پارہ22 رکوع 5)۔


    کمالات لسانیہ دو طرح سے نصیب ہوتے ہیں۔ایک طریقہ ہے کسب یعنی محنت کر کے انسان کمال حاصل کرتا ہے۔جاہل سے عالم ہونا۔عالم سے مفتی ہونا۔گنوار سے منطقی ہونا وغیرہ وغیرہ۔جس شخص نے جو بھی محنت کی اس نے اپنی مراد کو پا لیا۔
    اور دوسرا طریقہ کمالِ انسانی کا ہے وہبی۔ یعنی قدرت کی طرف سے عطا کیا ہوا ملکہ کچھ لوگ درسِ الہی سے کمال ودیعت کی صورت میں حاصل کر کے آتے ہیں۔ اس پر قرآن پاک کی آیات شاہد ہیں حضرت عیسی(علیہ اسلام) نے فرمایا۔
   

میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے کتاب اور نبوت عطا کی ہے(پارہ 16 رکوع 5)۔
  

  حضرت عیسی(علیہ اسلام) دو تین روز کے تھے کہ یہ اعلانِ نبوت فرما رہے ہیں کیونکہ علمِ وہبی کے مالک ہیں۔حضرت یحیی(علیہ اسلام) کے بارے میں خدا کا ارشاد سنو۔
  

  اے یحیی پکڑ کتاب کو ساتھ قوت کے(پارہ 16 رکوع 4)۔
   

تو حضرت یحیی(علیہ اسلام) بچپنے میں ہی اعلانِ نبوت فرما رہے ہیں۔جو لوگ درسِ الہی سے تربیت حاصل کر کے آتے ہیں۔انہیں معصوم منصوص من اللہ کہا جاتا ہے اور یہی لوگ نبی امام کے لقب سے دنیا میں پکارے جاتے ہیں۔اور جو لوگ دنیا میں کسب سے کمال حاصل کرتے ہیں۔یہ لوگ غیر معصوم کہلاتے ہیں۔ہمیشہ غیر معصوم ہدایت کے سلسلہ میں معصوم کا محتاج رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔یہ طریقہ و روشِ عادت و سنت ،قدرت نے ابتدا سے جاری کی ہے جو ہمیشہ ہمیشہ جاری و ساری رہے گی۔اسی لیے فرمایا۔
  

  “تم اللہ کے طریقوں کو کبھی بدلتا ہوا نہ دیکھو گے(پارہ22 رکوع 5)“
  

  کتنے افسوس اور حیرت کا مقام ہے کہ خدا تعالی کی تمام مخلوقات سے انسان زیادہ نڈر،بے باک اور بے خوف نکلا کہ شوقِ ترقی میں اتنا پرواز کیا کہ انسان نے خدائی دعوی کر دیا۔یہ حضرت انسان کی بے پرواہی اور بے حیائی کی انتہا ہے کہ انسان سے رحمن بن بیٹھا۔نمرود۔فرعون۔ہامان۔ش داد۔قارون۔دقیانوس۔بخت نصر وغیرہ صفِ اول میں نظر آتے ہیں۔سینکڑوں برس تک یہ لوگ خدا بنے رہے اور اکثر نے یہ اعلان کیا۔
  

  “میں سب سے بڑا رب ہوں(پارہ30 رکوع 3)“
  

  لاکھوں انسانوں نے ان ظالموں کو خدا مانا اور ان کے دعوی خدائی کی تصدیق بھی کی۔زمانہ جہالت میں ان جہالوں کی خدائی خوب چلی۔مگر جب زمانہ نے ذرا قدم آگے بڑھایا تو ان لوگوں کی خدائی تو نہ چل سکی۔یہ لوگ سمجھ گئے کہ اب اذہانِ انسانیہ کچھ بیدار ہو گئے ہیں اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے نمرود کے ساتھ جو مناظرہ کیا تھا۔اس کی روداد بھی دنیا کے سامنے تھی اس لیے اب خدا بننے کی جرات تو نہ کر سکے۔لہذا کثرت سے لوگوں نے نبوت کے دعوے شروع کر دئیے۔
 

   نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں مسلیمہ کذاب نے دعوی نبوت کیا اور رسول خدا سے بھی ملاقات کی اور کہا اگر آپ وعدہ کریں کہ میرے انتقال کے بعد مسلیمہ کذاب نبی ہو گا تو میں فلحال دعوی نبوت واپس لیتا ہوں اور آپ پر ایمان لے آتا ہوں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ حق پرست میں ایک چھڑی تھی آپ نے فرمایا کہ میں تو تجھ سے اس چھڑی کا وعدہ نہیں کرتا چہ جائے کہ تیری نبوت کا اعلان کیا جائے(رسولِ مقبول صفحہ 187)۔
  

  اس ملعون سے جب کہا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہے۔“فرمایا میری امت میں تیس کذاب و دجال ہوں گے جو دعوی نبوت کریں گے اور میں خاتم النبین ہوں۔میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا(ترمذی شریف جلد 2 صفحہ112۔۔۔۔۔۔۔مناظرہ نصرت اسلام صفحہ12)“
   

تو مسلیمہ کذاب نے کہا کہ حدیث بالکل صحیح ہے۔حکم ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا میں تو محمد کے زمانہ میں ہوا ہوں۔میں تو بعد میں نہیں ہوا۔
  

  حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ حیات میں ہی یمن سے اسود کذاب نے نبوت کا دعوی کیا جس کو فروز نامی ایک انسان نے واصل جہنم کر دیا(تاریخِ اسلام جلد1 صفحہ243)
   

طلحہ اسدی ایک مردِ کاہن تھا پہلے اسلام میں داخل ہوا بعد میں مرتد ہو گیا اور دعوی نبوت کر دیا۔ ہزاروں انسانوں نے اسے بھی نبی تسلیم کیا مگر یہ اسلام کے مقابلہ کی تاب نہ لا کر آخیر زمانہ زندگی میں پھر مسلمان ہو گیا(تاریخِ اسلام جلد1 صفحہ290)۔
   

حد یہ ہے کہ عورتوں نے نبوت کے دعوے کئے۔تاریخ شاہد ہے کہ بنی تغلب کی ایک عورت سجاح بنت الحارث بن سوید نے نبوت کا دعوی کیااور اپنے ماننے والے ہزاروں پیدا کر لئے(تاریخِ اسلام جلد1 صفحہ292)۔
   

جب اس کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کہ“میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا“ تو اس نے کہا حدیث تو بلکل صحیح ہے۔محمد کے بعد واقعی کوئی مرد نبی نہیں بن سکتا مگر “نبیہ“ یعنی عورت تو ہو سکتی ہے۔
  

  سجاح نے اپنے امتیوں پر پانچ وقت کی نماز تو واجب کر رکھی تھی مگر شراب پینا، سور کا گوشت کھانا اور زنا کرنا جائز قرار دیا تھا۔اس وجہ سے بہت سے عیسائیوں نے بھی اس مذہب کو قبول کر لیا تھا۔آخر نتیجہ یہ نکلا کہ سجاح نے مسلیمہ کذاب سے نکاح کر لیا اور اور دو رکعت عشاء اور فجر کی نماز حق مہر قرار پائی لہذا سجاح کی امت صرف دو رکعت نماز پڑھا کرتی تھی۔(تاریخِ اسلام جلد 1 صفحہ294)۔
  

  دوسرے ممالک کو چھوڑئیے ملک پاکستان میں کئی لوگوں نے نبوت کی دکان کھولی مگر کسی کی چل نکلی اور کسی نے چار دن سودا نبوت بیچ کر گھاٹا کھا کر دکان بند کر دی۔سنو۔
   

قادیان میں مرزا غلام احمد ولد مرزا غلام مرتضی ولد عطا محمد ولد گل محمد نے نبوت کا دعوی کیا۔اور ضلع گجرات موضع منگوال متصل کنجاہ میں بشیر احمد ولد عبداللہ(ایم۔اے۔بی۔ٹی)نے نبوت کی آڑھت رچائی۔مگر کوئی خاص کامیابی نہ ہو سکی۔
  

  سیالکوٹ میں ماسٹر عبد الحمید صاحب نے ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد قسمت آزمائی کی مگر بار آور نہ ہو سکی۔موضع فقیر والی ضلع بہاول نگر میں مولوی نور محمد صاحب نے نبوت کا دعوی کیااور دستور العمل بھی شائع فرمائے جو چند دنوں کے بعد سپردِ خاک کر دئیے گئے۔
   

2 فروری 1969 اخبار امروز میں شائع ہوا تھا کہ نواب شاہ سندھ میں مولوی محمد حسین نامی نے اعلان نبوت کیا مگر پولیس سے مقابلہ کرتا ہوا گرفتار ہو کر جیل میں سکونت پذیر ہو گیا۔اس کے علاوہ خواجہ محمد اسماعیل صاحب جو جماعتِ احمدی کی طرف سے لندن میں مبلغ کی حیثیت سے مقیم تھا اس نے وہاں اپنا نبوت کا جھنڈا گاڑھ دیا۔خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کی نبوت نے کتنی دولت جمع کی۔
   

غرضیکہ آئے روز نبوت کے دعوے ہوتے ہیں اور ہر مدعی کچھ نہ کچھ حواری بھی پیدا کر لیتا ہے۔میں آج میزانِ نبوت قرآن کی رو سے عرض کرتا ہوں۔ہر مدعی نبوت کو اس پر جانچو اگر پورا اترے تو غور کرو ورنہ یقینا کذاب ہو گا۔
  

  مسلمانو جناب رسولِ خدا کا فرمان واجبِ اذِعان احادیث کی کتابوں میں موجود ہے کہ“میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا“۔اس حدیث کی رو سے تو صرف دعوی ہی کذاب ہونے کی دلیل ہے مگر میں وہ اصول بیان کرتا ہوں جن پر سابقہ انبیاء(علیہ اسلا)پورے اترے اور ہر مدعی نبوت کو اسی پر وزن کر کے دیکھ لو حقیقت کھل جائے گی۔
   

(1) ہر آنے والا نبی ورسول درسِ الہیہ سے پڑھ کر آتا ہے۔جس پر قرآن پاک کی آیات شاہد ہیں۔

“اور آدم کو تمام اسماء کا علم عطا کیا(پارہ1رکوع4)“۔

حضرت آدم علیہ اسلام نے دنیا میں آ کر تعلیم حاصل نہیں کی بلکہ قدرت نے حضرت کو یہ منصب ودیعت فرمایا۔اور سنو

۔“یقینا ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا فرمایا(پارہ19رکوع17)“

۔ثابت ہوا کہ ان حضرات کو اللہ تعالی نے علم عطا کیا اور کسی ملاں سے تعلیم حاصل نہیں کی اور سنو۔

“اور عطا کیا تم کو جو کچھ تم نہ جانتے تھے ہم نے تم کو سکھا دیا(پارہ5رکوع14)“۔
  

  یہاں لوگ جواب دیا کرتے ہیں کہ حضرت موسی علیہ اسلام نے حضرت خضر علیہ اسلام سے علم حاصل کیا تھا لہذا دنیا میں معصوم علم حاصل کرتا ہے۔جوابا عرض ہے کہ معصوم سے معصوم کا علم حاصل کرنا تو ادائیگی امانت ہے۔آپ کسی غیر معصوم کے سامنے کسی معصوم کو زانو تہہ کرتے ہوئے دکھلائیں۔دنیا میں کسی معصوم نے غیر معصوم سے ہرگز ہرگز تعلیم حاصل نہیں کی۔اگر کوئی مثال پیش کی جا سکتی ہے تو صرف بناوٹی نبیوں کی۔
 

   جیسا کہ مرزا غلام احمد صاحب 1838 میں پیدا ہوئے۔انہوں نے مولوی فضل الہی، اس کے بعد فضل احمد اور آخر میں مولوی گل علی شاہ صاحب سے تعلیم حاصل کی۔قرآن کا حکم ہے کہ

“اللہ تعالی اپنی سنت کو تبدیل نہیں کرتا“۔

اب فیصلہ کرو کہ یہ کس معیار کا نبی ہے اس کے بعد 1864 سے 1868 تک سیالکوٹ کچہری میں اہلمند متفرقات رہا(مجدد اعظم صفحہ42)۔
  

  سیالکوٹ کی ملازمت کے دوران مختاری کا امتحان بھی دیا جس میں مرزا صاحب فیل ہو گئے(مجدد اعظم صفحہ4۔مسلمانو!نبی وہ ہوتا ہے جس کی زبان کا فقرہ خدا کی تقدیر بنے۔قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے۔

“تم کچھ نہیں چاہتے وہی چاہتے ہو جو اللہ چاہتا ہے(پارہ29رکوع20)“۔

مگر یہاں مرزا صاحب کی چاہت پر خدا نے پانی پھیر دیا۔مختاری امتحان سے فیل ہونے والے نبی کا اپنا دعوی تو سنو۔
    زندہ شد ہر نبی بآمدنم
    ہر رسولے نہاں بہ پیرہم
 

   دُرِ ثمین فارسی صفحہ168۔قادیانیت صفحہ106۔اخبار الفضل قادیاں جلد14 اور 15 میں ہے کہ حضرت مسیح موعود نبی تھے۔آپ کا درجہ مقام کے لحاظ سے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شاگرد اور آپ کا ظل ہونے کا تھا دیگر انبیاء علیہ اسلام میں سے بہتوں سے آپ بڑے تھے۔ ممکن ہے سب سے بڑے ہوں(مورخہ29اپریل1927قادیانیت صفحہ 109)۔
   

مسلمان غور فرمائیں کہ جس بزرگ کو تمام اولوالعزم نبیوں سے بلند کہا جا رہا ہے وہ بے چارہ امتحان مختاری سے ناکام ہو گیا۔ثابت ہوا کہ یہ بندوں کا پڑھایا ہوا ہے لہذا بندوں کا بنایا ہوا نبی ہے۔اور درسِ الہی سے پڑھ کر آنے والا خدا کا بھیجا ہوا نبی ہوتا ہے۔
   

(2)حضرت آدم علیہ اسلام سے لے کر جناب ختمی المرتبت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر نبی نے نہ خود کفار و مشرکین سے دوستی قائم کی اور نہ ہی اپنی امت کو ایسا کرنے کا حکم دیا بلکہ کافروں اور مشرکوں سے دوستی کرنے سے تو منع فرماتے رہے۔قرآن سنو۔
  

  “اے لوگو جو ایمان لائے ہو۔مت پکڑو یہود اور نصاری کو دوست بعض ان کے دوست ہیں بعض کے اور جو کوئی دوست پکڑے ان کو تم میں سے پس تحقیق وہ انہیں میں سے ہے(پارہ6رکوع12)“
   

اب اس آیت کی رو سے کسی مومن کو حق حاصل نہیں کہ وہ یہود و نصاری سے دوستی قائم کرے اور اگر کسی نے دوستی قائم کر لی تو وہ انہیں میں سے ہو گا۔
   

اب مرزا صاحب کی اپنی زبانی نصاری کی مودت اور محبت کی داستانیں سنو اور فیصلہ کرو کہ یہ کس فیکٹری کی نبوت ہے۔مرزا صاحب فرماتے ہیں میری عمر کا اکثر حصہ اس انگریزی حکومت کی تائید و حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتب اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں(تریاق القلوب تختی خورد، قادیانیت صفحہ 131،دو خط صفحہ3۔آگے فرماتے ہیں میں بیس برس تک یہی تعلیم اطاعتِ گورنمنٹ انگریز کی دیتا رہا اور اپنے مریدوں میں یہی ہدائیتیں جاری کرتا رہا(تریاق القلوب صفحہ26 اور انگریزی نبی صفحہ11)۔اور فرمایا کہ میں انگریز کا خود کاشتہ پودا ہوں(قادیانیت صفحہ136)۔24 فروری1898 کو لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کو جو درخواست دی گئی تھی۔ اس میں خود کاشتہ پودے کا ذکر و اذکار و اقرار ہے۔مرزا صاحب کا شعر ملاحظہ ہو۔
  

  تاج و تخت ہند قیصر کو مبارک ہو مدام
  ان کی شاہی میں میں پاتا ہوں رفائے روزگار۔۔۔۔۔۔۔(دُرِ ثمین صفحہ 139)
  

  مرزا صاحب انگریز کی کاسہ لیسی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ خدا تعالی نے ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکرایسا ہی فرض کیا ہے جیسا کہ اس کا شکر کرنا سو اگر ہم محسن گورنمنٹ(برطانیہ) کا شکرادا نہ کریں یا کوئی شر اپنے ارادے میں رکھیں تو ہم نے خدا تعالی کا بھی شکر ادا نہیں کیا کیونکہ اللہ تعالی کا شکر اور کسی محسن گونمنٹ کا شکر جس کو اللہ تعالی اپنے بندوں کو بطور نعمت عطا کر دے در حقیقت یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں اور ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور ایک کو چھوڑنے سے دوسری چیز پر چھوڑنا لازم آتا ہے(شہادت القرآن صفحہ86)۔
   

اور ہم پر اور ہماری ذریت پر فرض ہو گیا ہے کہ اس مبارک گورنمنٹ برطانیہ کے ہمیشہ شکر گزار رہیں(ازالہ اوہام صفحہ 58،انگریزی نبی صفحہ21)۔ان چند سطور سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مرزا صاحب کی حقیقتِ نبوت کیا ہے۔
   

(3)ہر آنے والے نبی نے سابقہ انبیاء کی تصدیق کی ہے اور ہر ممکن امت کو سابقہ انبیاء علیہ اسلام کا احترام سکھلایا۔ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بھی نص موجود ہے۔“پھر ہمارا رسول تشریف لائے گا اور تمہاری تصدیق کرے گا(پارہ3رکوع17)“۔اور اسی طرح حضور پر نور نے تشریف لا کر سابقہ انبیاء علیہ اسلام کی تصدیق کی۔
   

اب مرزا صاحب کی سنو فرمایا عیسی کی تین دادیاں اور نانیاں زناکار تھیں(معاذ اللہ)جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔آپ کنجریوں سے عطر لگوایا کرتے تھے۔ایک نوجوان کے لیے شرم کی بات ہے۔ وہ عطر زناکاری کا ہوتا تھا(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ صفحہ7)۔میرا باپ بعض اولوالعزم نبیوں سے بھی آگے نکل گیا(حقیقت نبوت صفحہ257،قادیانیت صفحہ109)۔مرزا صاحب کا شعر سنو۔
   

    ابنِ مریم کے ذکر کو چھوڑو
    اس سے بہتر غلام احمد ہے۔۔۔۔(دُرِثمین صفحہ 51)
   

مرزا صاحب کی شان میں ایک رباعی سنو جو ان کے ایک خاص مرید اکمل نامی نے ترتیب دے کر مرزا صاحب کے لڑکے مرزا بشیر الدین محمود کے پیش کی جس کو اخبارالفضل میں 23 اگست 1944 کو شائع کیا گیااور چوکھٹو میں اسے جڑا گیا۔
   

    محمد اتر آئے پھر جہاں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلے سے بڑھ کر ہیں اپنی شاں میں
    محمد دیکھنے ہو جس نے اکمل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں 

جاری ہے






 

Live streaming video by Ustream
 

کتب

ملٹی میڈیا

 
  • audio
  • videos
  • gallery
  • library

فیچرڈ ویڈیو

  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video
  • featured video